🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
107. باب ما يقال عند النوم
باب: سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5057
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ: الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ، وَقَالَ: إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے «المسبحات» ۱؎ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے: ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 22 (3409)، (تحفة الأشراف: 9888)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/128) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة بقیہ اور ابن ابی بلال ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: مسبحات وہ سورتیں ہیں جو لفظ  «یُسَبِّحُ» یا  «سَبَّحَ» سے شروع ہوتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2151)
أخرجه الترمذي (2921) رواية بقية عن بھير صحيح سواء صرح بالسماع أم لا، وابن أبي بلال حسن الحديث

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥العرباض بن سارية السلمي، أبو نجيحصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي بلال الخزاعي
Newعبد الله بن أبي بلال الخزاعي ← العرباض بن سارية السلمي
مقبول
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله
Newخالد بن معدان الكلاعي ← عبد الله بن أبي بلال الخزاعي
ثقة
👤←👥بحير بن سعد السحولي، أبو خالد
Newبحير بن سعد السحولي ← خالد بن معدان الكلاعي
ثقة ثبت
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← بحير بن سعد السحولي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥مؤمل بن الفضل الجزري، أبو سعيد
Newمؤمل بن الفضل الجزري ← بقية بن الوليد الكلاعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2921
يقرأ المسبحات قبل أن يرقد ويقول إن فيهن آية خير من ألف آية
جامع الترمذي
3406
يقرأ المسبحات ويقول فيها آية خير من ألف آية
سنن أبي داود
5057
يقرأ المسبحات قبل أن يرقد وقال إن فيهن آية أفضل من ألف آية
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5057 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5057
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
(المسبحات) سے مراد قرآن کریم کی وہ سورتیں ہیں۔
جن کی ابتداء میں لفظ  (سبحان سبَّحَ) یا «یُسَبِّحُ»  آیا ہے۔
اور یہ سات سورتیں ہیں۔
بني اسرائيل ...الحديد...الحشر...الصف...الجمعة...التغابن...الاعلی
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5057]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2921
باب:۔۔۔
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے ۱؎ آپ فرماتے تھے: ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2921]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مسبحات وہ سورتیں ہیں جو سبحان اللہ،
سبح اور یسبح سے شروع ہوتی ہیں،
وہ یہ ہیں:
بنی اسرائیل،
الحدید،
الحشر،
الجمعہ،
الصف،
التغابن،
اورالاعلیٰ۔

نوٹ:
(سند میں بقیۃ بن الولید مدلس راوی ہیں،
اورروایت عنعنہ سے ہے،
نیز (عبد اللہ بن أبی بلال الخزاعي الشامي مقبول عندالمتابعة) ہیں،
اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2921]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3406
سوتے وقت قرآن پڑھنے سے متعلق ایک اور باب۔
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «مسبحات» ۱؎ پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے ۲؎، آپ فرماتے تھے: ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3406]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
وہ سورتیں جن کے شروع میں (سَبَّحَ یُسَبِّحُ) یا (سُبحَانَ اللہ) ہے۔

2؎:
سونے کے وقت پڑھی جانے والی سورتوں اور دعاؤں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد روایات واردہ یں جن میں بعض کا مؤلف نے بھی ذکرکیا ہے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل ممکن ہے کہ وہ ساری دعائیں اورسورتیں پڑھ لیتے ہوں،
یا نشاط اور چستی کے مطابق کبھی کوئی پڑھ لیتے ہوں اور کبھی کوئی۔

نوٹ:
(سند میں بقیۃ بن الولید مدلس راوی ہیں،
اور روایت عنعنہ سے ہے،
نیز عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بِلَالٍ الخزاعي الشِّاميِ مَقْبول عِنْدَالمتابعة) ہیں،
اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں،
البانی صاحب نے صحیح الترمذی میں پہلی جگہ ضعیف الإسناد لکھا ہے،
اور دوسری جگہ حسن جب کہ ضعیف الترغیب (344) میں اسے ضعیف کہا ہے)-
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3406]