🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة إبراهيم
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
الر كتاب أنزلناه إليك لتخرج الناس من الظلمات إلى النور بإذن ربهم إلى صراط العزيز الحميد
الٓرٰ ۔ ایک کتاب ہے جسے ہم نے تیری طرف نازل کیا ہے، تاکہ تو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے، ان کے رب کے اذن سے، اس کے راستے کی طرف جو سب پر غالب، بے حد تعریف والا ہے۔
2
الله الذي له ما في السماوات وما في الأرض وويل للكافرين من عذاب شديد
اس اللہ کے (راستے کی طرف) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافروں کے لیے سخت عذاب کے باعث بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
3
الذين يستحبون الحياة الدنيا على الآخرة ويصدون عن سبيل الله ويبغونها عوجا أولئك في ضلال بعيد
وہ جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں بہت زیادہ محبوب رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں، یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔
ابن کثیر ↑
4
وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومه ليبين لهم فيضل الله من يشاء ويهدي من يشاء وهو العزيز الحكيم
اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں، تاکہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان کرے، پھر اللہ گمراہ کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
5
ولقد أرسلنا موسى بآياتنا أن أخرج قومك من الظلمات إلى النور وذكرهم بأيام الله إن في ذلك لآيات لكل صبار شكور
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال اور انھیں اللہ کے دن یاد دلا، بلاشبہ اس میں ہر ایسے شخص کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو بہت صبر کرنے والا، بہت شکر کرنے والا ہے۔
6
وإذ قال موسى لقومه اذكروا نعمة الله عليكم إذ أنجاكم من آل فرعون يسومونكم سوء العذاب ويذبحون أبناءكم ويستحيون نساءكم وفي ذلكم بلاء من ربكم عظيم
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تمھیں فرعون کی آل سے نجات دی، جو تمھیں برا عذاب دیتے تھے اور تمھارے بیٹے بری طرح ذبح کرتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔
7
وإذ تأذن ربكم لئن شكرتم لأزيدنكم ولئن كفرتم إن عذابي لشديد
اور جب تمھارے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا اور بے شک اگر تم نا شکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب یقینا بہت سخت ہے۔
ابن کثیر ↑
8
وقال موسى إن تكفروا أنتم ومن في الأرض جميعا فإن الله لغني حميد
اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ لوگ جو زمین میں ہیں، سب کے سب کفر کرو تو بے شک اللہ یقینا بڑا بے پروا، بے حد تعریف والا ہے۔
ابن کثیر ↑
9
ألم يأتكم نبأ الذين من قبلكم قوم نوح وعاد وثمود والذين من بعدهم لا يعلمهم إلا الله جاءتهم رسلهم بالبينات فردوا أيديهم في أفواههم وقالوا إنا كفرنا بما أرسلتم به وإنا لفي شك مما تدعوننا إليه مريب
کیا تمھارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، نوح کی قوم کی (خبر) اور عاد اور ثمود کی اور ان کی جو ان کے بعد تھے، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لوٹالیے اور انھوں نے کہا بے شک ہم اسے نہیں مانتے جو تم دے کر بھیجے گئے ہو اور بے شک ہم تو اس چیز کے بارے میں جس کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو، ایک بے چین رکھنے والے شک میں مبتلا ہیں۔
10
قالت رسلهم أفي الله شك فاطر السماوات والأرض يدعوكم ليغفر لكم من ذنوبكم ويؤخركم إلى أجل مسمى قالوا إن أنتم إلا بشر مثلنا تريدون أن تصدونا عما كان يعبد آباؤنا فأتونا بسلطان مبين
ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ کے بارے میں کوئی شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے؟ تمھیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمھارے لیے تمھارے کچھ گناہ بخش دے اور تمھیں ایک مقرر مدت تک مہلت دے۔ انھوں نے کہا تم نہیں ہو مگر ہمارے جیسے بشر، تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے روک دو جس کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔
11
قالت لهم رسلهم إن نحن إلا بشر مثلكم ولكن الله يمن على من يشاء من عباده وما كان لنا أن نأتيكم بسلطان إلا بإذن الله وعلى الله فليتوكل المؤمنون
ان کے رسولوں نے ان سے کہا ہم نہیں ہیں مگر تمھارے جیسے بشر اور لیکن اللہ احسان کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور ہمارے لیے کبھی ممکن نہیں کہ تمھارے پاس کوئی دلیل اللہ کے اذن کے سوا لے آئیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔
ابن کثیر ↑
12
وما لنا ألا نتوكل على الله وقد هدانا سبلنا ولنصبرن على ما آذيتمونا وعلى الله فليتوكل المتوكلون
اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسا نہ کریں، حالانکہ اس نے ہمیں ہمارے راستے دکھا دیے ہیں اور ہم ہر صورت اس پر صبر کریں گے جو تم ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔
ابن کثیر ↑
13
وقال الذين كفروا لرسلهم لنخرجنكم من أرضنا أو لتعودن في ملتنا فأوحى إليهم ربهم لنهلكن الظالمين
اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے رسولوں سے کہا ہم ہر صورت تمھیں اپنی زمین سے نکال دیں گے، یا لازماً تم ہماری ملت میں واپس آئو گے، تو ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ یقینا ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے۔
14
ولنسكننكم الأرض من بعدهم ذلك لمن خاف مقامي وخاف وعيد
اور یقینا ان کے بعد ہم تمھیں اس زمین میں ضرور آباد کریں گے، یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور میری وعید سے ڈرا۔
15
واستفتحوا وخاب كل جبار عنيد
اور انھوں نے فیصلہ مانگا اور ہر سرکش، سخت عناد رکھنے والا نامراد ہوا۔
ابن کثیر ↑
16
من ورائه جهنم ويسقى من ماء صديد
اس کے پیچھے جہنم ہے اور اسے اس پانی سے پلایا جائے گا جو پیپ ہے۔
ابن کثیر ↑
17
يتجرعه ولا يكاد يسيغه ويأتيه الموت من كل مكان وما هو بميت ومن ورائه عذاب غليظ
وہ اسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پیے گا اور قریب نہ ہوگا کہ اسے حلق سے اتارے اور اس کے پاس موت ہر جگہ سے آئے گی، حالانکہ وہ کسی صورت مرنے والا نہیں اور اس کے پیچھے ایک بہت سخت عذاب ہے۔
ابن کثیر ↑
18
مثل الذين كفروا بربهم أعمالهم كرماد اشتدت به الريح في يوم عاصف لا يقدرون مما كسبوا على شيء ذلك هو الضلال البعيد
ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جس پر آندھی والے دن میں ہوا بہت سخت چلی۔ وہ اس میں سے کسی چیز پر قدرت نہ پائیں گے جو انھوں نے کمایا، یہی بہت دور کی گمراہی ہے۔
19
ألم تر أن الله خلق السماوات والأرض بالحق إن يشأ يذهبكم ويأت بخلق جديد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔
20
وما ذلك على الله بعزيز
اور یہ اللہ پر ہرگز کچھ مشکل نہیں۔
ابن کثیر ↑
21
وبرزوا لله جميعا فقال الضعفاء للذين استكبروا إنا كنا لكم تبعا فهل أنتم مغنون عنا من عذاب الله من شيء قالوا لو هدانا الله لهديناكم سواء علينا أجزعنا أم صبرنا ما لنا من محيص
اور وہ سب کے سب اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، تو کمزور لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے تھے کہ بے شک ہم تمھارے تابع تھے، تو کیا تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچانے میں کچھ بھی کام آنے والے ہو؟ وہ کہیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمھیں ضرور ہدایت کرتے، ہم پر برابر ہے کہ ہم گھبرائیں، یا ہم صبر کریں، ہمارے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔
22
وقال الشيطان لما قضي الأمر إن الله وعدكم وعد الحق ووعدتكم فأخلفتكم وما كان لي عليكم من سلطان إلا أن دعوتكم فاستجبتم لي فلا تلوموني ولوموا أنفسكم ما أنا بمصرخكم وما أنتم بمصرخي إني كفرت بما أشركتمون من قبل إن الظالمين لهم عذاب أليم
اور شیطان کہے گا، جب سارے کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہاور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی اور میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمھیں بلایا تو تم نے فوراً میرا کہنا مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمھاری فریاد کو پہنچنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو، بے شک میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے اس سے پہلے شریک بنایا۔ یقینا جو لوگ ظالم ہیں انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔
23
وأدخل الذين آمنوا وعملوا الصالحات جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها بإذن ربهم تحيتهم فيها سلام
اور جولوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، ان کی آپس کی دعا اس میں سلام ہو گی۔
ابن کثیر ↑
24
ألم تر كيف ضرب الله مثلا كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال کیسے بیان فرمائی (کہ وہ) ایک پاکیزہ درخت کی طرح (ہے) جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی چوٹی آسمان میں ہے۔
25
تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها ويضرب الله الأمثال للناس لعلهم يتذكرون
وہ اپنا پھل اپنے رب کے حکم سے ہر وقت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
ابن کثیر ↑
26
ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار
اور گندی بات کی مثال ایک گندے پودے کی طرح ہے، جو زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا گیا، اس کے لیے کچھ بھی قرار نہیں۔
ابن کثیر ↑
27
يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة ويضل الله الظالمين ويفعل الله ما يشاء
اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے، پختہ بات کے ساتھ خوب قائم رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور اللہ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
28
ألم تر إلى الذين بدلوا نعمت الله كفرا وأحلوا قومهم دار البوار
کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا۔
29
جهنم يصلونها وبئس القرار
جہنم میں، وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
ابن کثیر ↑
30
وجعلوا لله أندادا ليضلوا عن سبيله قل تمتعوا فإن مصيركم إلى النار
اور انھوں نے اللہ کے لیے کچھ شریک بنا لیے، تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دے فائدہ اٹھالو، پس بے شک تمھارا لوٹنا آگ کی طرف ہے۔
ابن کثیر ↑
31
قل لعبادي الذين آمنوا يقيموا الصلاة وينفقوا مما رزقناهم سرا وعلانية من قبل أن يأتي يوم لا بيع فيه ولا خلال
میرے بندوں سے جو ایمان لائے ہیں، کہہ دے کہ وہ نماز قائم کریں اور اس میں سے جو ہم نے انھیں دیا ہے، پوشیدہ اور ظاہر خرچ کریں، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی اور نہ کوئی دلی دوستی۔
32
الله الذي خلق السماوات والأرض وأنزل من السماء ماء فأخرج به من الثمرات رزقا لكم وسخر لكم الفلك لتجري في البحر بأمره وسخر لكم الأنهار
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ تمھارے لیے پھلوں میں سے کچھ رزق نکالا اور تمھارے لیے کشتیوں کو مسخر کیا، تاکہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمھاری خاطر دریاؤں کو مسخر کر دیا۔
33
وسخر لكم الشمس والقمر دائبين وسخر لكم الليل والنهار
اور تمھاری خاطر سورج اور چاند کو مسخر کر دیا کہ پے درپے چلنے والے ہیں اور تمھاری خاطر رات اور دن کو مسخر کر دیا۔
ابن کثیر ↑
34
وآتاكم من كل ما سألتموه وإن تعدوا نعمت الله لا تحصوها إن الإنسان لظلوم كفار
اور تمھیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پائو گے۔ بلاشبہ انسان یقینا بڑا ظالم، بہت ناشکرا ہے۔
ابن کثیر ↑
35
وإذ قال إبراهيم رب اجعل هذا البلد آمنا واجنبني وبني أن نعبد الأصنام
اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔
36
رب إنهن أضللن كثيرا من الناس فمن تبعني فإنه مني ومن عصاني فإنك غفور رحيم
اے میرے رب! بے شک انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا، پھر جو میرے پیچھے چلا تو یقینا وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا توُ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
ابن کثیر ↑
37
ربنا إني أسكنت من ذريتي بواد غير ذي زرع عند بيتك المحرم ربنا ليقيموا الصلاة فاجعل أفئدة من الناس تهوي إليهم وارزقهم من الثمرات لعلهم يشكرون
اے ہمارے رب! بے شک میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں آباد کیا ہے، جو کسی کھیتی والی نہیں، تیرے حرمت والے گھر کے پاس، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ سو کچھ لوگوں کے دل ایسے کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں اور انھیں پھلوں سے رزق عطا کر، تاکہ وہ شکر کریں۔
38
ربنا إنك تعلم ما نخفي وما نعلن وما يخفى على الله من شيء في الأرض ولا في السماء
اے ہمارے رب! یقینا تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں اور اللہ پر کوئی چیز نہیں چھپتی زمین میں اور نہ آسمان میں۔
39
الحمد لله الذي وهب لي على الكبر إسماعيل وإسحاق إن ربي لسميع الدعاء
سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔ بے شک میرا رب تو بہت دعا سننے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
40
رب اجعلني مقيم الصلاة ومن ذريتي ربنا وتقبل دعاء
اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول کر۔
ابن کثیر ↑
41
ربنا اغفر لي ولوالدي وللمؤمنين يوم يقوم الحساب
اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہوگا۔
ابن کثیر ↑
42
ولا تحسبن الله غافلا عما يعمل الظالمون إنما يؤخرهم ليوم تشخص فيه الأبصار
اور تو اللہ کو ہرگز اس سے غافل گمان نہ کر جو ظالم لوگ کر رہے ہیں، وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔
43
مهطعين مقنعي رءوسهم لا يرتد إليهم طرفهم وأفئدتهم هواء
اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے، ان کی نگاہ ان کی طرف نہیں لوٹے گی اور ان کے دل خالی ہوںگے۔
ابن کثیر ↑
44
وأنذر الناس يوم يأتيهم العذاب فيقول الذين ظلموا ربنا أخرنا إلى أجل قريب نجب دعوتك ونتبع الرسل أولم تكونوا أقسمتم من قبل ما لكم من زوال
اور لوگوں کو اس دن سے ڈرا جب ان پر عذاب آئے گا، تو وہ لوگ جنھوںنے ظلم کیا، کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں قریب وقت تک مہلت دے دے، ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور ہم رسولوں کی پیروی کریں گے۔ اور کیا تم نے اس سے پہلے قسمیں نہ کھائی تھیں کہ تمھارے لیے کوئی بھی زوال نہیں۔
45
وسكنتم في مساكن الذين ظلموا أنفسهم وتبين لكم كيف فعلنا بهم وضربنا لكم الأمثال
اور تم ان لوگوں کے رہنے کی جگہوں میں آباد رہے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تمھارے لیے خوب واضح ہوگیا کہ ہم نے ان کے ساتھ کس طرح کیا اور ہم نے تمھارے لیے کئی مثالیں بیان کیں۔
ابن کثیر ↑
46
وقد مكروا مكرهم وعند الله مكرهم وإن كان مكرهم لتزول منه الجبال
اور بے شک انھوں نے تدبیر کی، اپنی تدبیر اور اللہ ہی کے پاس ان کی تدبیرہے اور ان کی تدبیر ہرگز ایسی نہ تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں۔
ابن کثیر ↑
47
فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله إن الله عزيز ذو انتقام
پس تو ہرگز گمان نہ کر کہ اللہ اپنے رسولوں سے اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا ہے۔ یقینا اللہ سب پر غالب، بدلہ لینے والا ہے۔
48
يوم تبدل الأرض غير الأرض والسماوات وبرزوا لله الواحد القهار
جس دن یہ زمین اور زمین سے بدل دی جائے گی اور سب آسمان بھی اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے۔
ابن کثیر ↑
49
وترى المجرمين يومئذ مقرنين في الأصفاد
اور تو مجرموں کو اس دن زنجیروں میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے دیکھے گا۔
50
سرابيلهم من قطران وتغشى وجوههم النار
ان کی قمیصیں رال(بیروزا) کی ہوں گی اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپے ہوگی۔
ابن کثیر ↑