قرآن مجيد
سورة الفرقان
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
بہت برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی (کتاب) اتاری، تاکہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔
|
|
2 |
وہ ذات کہ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا، پورا اندازہ۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
اور انھوں نے اس کے سوا کئی اور معبود بنا لیے، جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں اور اپنے لیے نہ کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ کسی موت کے مالک ہیں اور نہ زندگی کے اور نہ اٹھائے جانے کے۔
|
|
4 |
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ بھاری ظلم اور سخت جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔
|
|
5 |
اور انھوں نے کہایہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو اس نے لکھوا لی ہیں، تو وہ پہلے اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
توکہہ اسے اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین میں سب پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بے شک وہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
اور انھوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا کہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔
|
|
8 |
یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا اور ظالموں نے کہا تم تو بس ایسے آدمی کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
دیکھ انھوں نے تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کیں، سو گمراہ ہو گئے، پس وہ کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
بہت برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تیرے لیے اس سے بھی بہتر بنا دے ایسے باغات جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں اور تیرے لیے کئی محل بنا دے۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
بلکہ انھوںنے قیامت کو جھٹلا دیا اور ہم نے اس کے لیے جو قیامت کو جھٹلائے ، ایک بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
جب وہ انھیں دور جگہ سے دیکھے گی تو وہ اس کے لیے سخت غصے کی اور گدھے کی سی آواز سنیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
اور جب وہ اس کی کسی تنگ جگہ میں آپس میں جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو وہاں کسی نہ کسی ہلاکت کو پکاریں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
آج ایک ہلاکت کو مت پکارو، بلکہ بہت زیادہ ہلاکتوں کو پکارو۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
کہہ دے کیا یہ بہتر ہے یا ہمیشگی کی جنت، جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ ان کے لیے بدلہ اور ٹھکانا ہو گی۔
|
|
16 |
ان کے لیے اس میں جو چاہیں گے ہوگا، ہمیشہ رہنے والے، یہ تیرے رب کے ذمے ہوچکا، ایسا وعدہ جو قابل طلب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے؟
|
|
18 |
وہ کہیں گے تو پاک ہے، ہمارے لائق نہ تھا کہ ہم تیرے سوا کسی بھی طرح کے دوست بناتے اور لیکن تو نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو سامان دیا، یہاں تک کہ وہ (تیری ) یاد کو بھول گئے اور وہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
سو انھوں نے تو تمھیں اس بات میں جھٹلا دیا جو تم کہتے ہو، پس تم نہ کسی طرح ہٹانے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ کسی مدد کی اور تم میں سے جو ظلم کرے گا ہم اسے بہت بڑا عذاب چکھائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجے مگر بلاشبہ وہ یقینا کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمھارے بعض کو بعض کے لیے ایک آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے؟ اور تیرا رب ہمیشہ سے سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
|
|
21 |
اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے، یا ہم اپنے رب کو دیکھتے؟ بلا شبہ یقینا وہ اپنے دلوں میں بہت بڑے بن گئے اور انھوں نے سرکشی اختیار کی ، بہت بڑی سر کشی۔
|
|
22 |
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے خوشی کی کوئی خبر نہ ہوگی اور کہیں گے (کاش! ہمارے اوران کے درمیان) ایک مضبوط آڑ ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہو گا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
اس دن جنت والے ٹھکانے کے اعتبار سے نہایت بہتر اور دوپہر کی آرام گاہ کے اعتبار سے کہیں اچھے ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
اورجس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے، لگاتار اتارا جانا۔
|
|
26 |
اس دن حقیقی بادشاہی رحمان کی ہوگی اور کافروں پر وہ بہت مشکل دن ہوگا۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
بے شک اس نے تو مجھے نصیحت سے گمراہ کر دیا، اس کے بعد کہ میرے پاس آئی اور شیطان ہمیشہ انسان کو چھوڑ جانے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
اور رسول کہے گا اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑا ہوا بنا رکھا تھا۔
|
|
31 |
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے کوئی نہ کوئی دشمن بنایا اور تیرا رب ہدایت دینے والا اور مدد کرنے والا کافی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ قرآن اس پر ایک ہی بار کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ اسی طرح ( ہم نے اتارا) تاکہ ہم اس کے ساتھ تیرے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا، خوب ٹھہر کر پڑھنا۔
|
|
33 |
اور وہ تیرے پاس کوئی مثال نہیں لاتے مگر ہم تیرے پاس حق اور بہترین تفسیر بھیج دیتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
وہ لوگ جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو بوجھ بٹانے والا بنا دیا۔
|
|
36 |
پھر ہم نے کہا کہ دونوں ان لوگوں کی طرف جائو جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، بری طرح ہلاک کرنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
اور نوح کی قوم کو بھی جب انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں غرق کر دیا اور انھیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
اور عاد اور ثمود کو اور کنویں والوں کو اور اس کے درمیان بہت سے زمانے کے لوگوں کو بھی (ہلاک کر دیا)۔
|
ابن کثیر ↑
|
39 |
اور ہر ایک، ہم نے اس کے لیے مثالیں بیان کیں اور ہر ایک کو ہم نے تباہ کر دیا، بری طرح تباہ کرنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
اور بلاشبہ یقینا یہ لوگ اس بستی پر آ چکے، جس پر بارش برسائی گئی، بری بارش، تو کیا وہ اسے دیکھا نہ کرتے تھے؟ بلکہ وہ کسی طرح اٹھائے جانے کی امید نہ رکھتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
اور جب وہ تجھے دیکھتے ہیں تو تجھے نہیں بناتے مگر مذاق ، کیا یہی ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟
|
|
42 |
بے شک یہ تو قریب تھا کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے گمراہ ہی کر دیتا، اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم ان پر جمے رہے۔ اور عنقریب وہ جان لیں گے جب عذاب دیکھیں گے، کون راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش ہی کو بنا لیا، تو کیا تو اس کا ذمہ دار ہو گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
یا تو گمان کرتا ہے کہ ان کے اکثر سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں، وہ نہیں ہیں مگر چوپائوں کی طرح ، بلکہ وہ راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا اور اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کر دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا بنایا۔
|
|
46 |
پھر ہم نے اسے اپنی طرف سمیٹ لیا، تھوڑا تھوڑا سمیٹنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
47 |
اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے رات کو لباس بنایا اور نیند کو آرام اور دن کو اٹھ کھڑا ہونا بنایا۔
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
اور وہی ہے جس نے ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری کے لیے بھیجا اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔
|
|
49 |
تاکہ ہم اس کے ذریعے ایک مردہ شہر کو زندہ کریں اور اسے اس (مخلوق) میں سے جو ہم نے پیدا کی ہے، بہت سے جانوروں اور انسانوں کو پینے کے لیے مہیا کریں۔
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنٰہُ بَیۡنَہُمۡ لِیَذَّکَّرُوۡا ۫ۖ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۵۰﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے سخت ناشکری کرنے کے سوا کچھ نہیں مانا۔
|
ابن کثیر ↑
|