🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة النمل
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
طس تلك آيات القرآن وكتاب مبين
طس، یہ کامل قرآن اور واضح کتاب کی آیات ہیں۔
2
هدى وبشرى للمؤمنين
مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہیں۔
ابن کثیر ↑
3
الذين يقيمون الصلاة ويؤتون الزكاة وهم بالآخرة هم يوقنون
وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پریقین بھی وہی رکھتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
4
إن الذين لا يؤمنون بالآخرة زينا لهم أعمالهم فهم يعمهون
بے شک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال مزین کر دیے ہیں، پس وہ حیران پھرتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
5
أولئك الذين لهم سوء العذاب وهم في الآخرة هم الأخسرون
یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں، وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
6
وإنك لتلقى القرآن من لدن حكيم عليم
اور بلاشبہ یقینا تجھے قرآن ایک کمال حکمت والے،سب کچھ جاننے والے کے پاس سے عطا کیا جاتا ہے۔
ابن کثیر ↑
7
إذ قال موسى لأهله إني آنست نارا سآتيكم منها بخبر أو آتيكم بشهاب قبس لعلكم تصطلون
جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا بلاشبہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں عنقریب تمھارے پاس اس سے کوئی خبر لاؤں گا، یا تمھارے پاس اس سے سلگایا ہوا انگارا لے کر آئوں گا، تاکہ تم تاپ لو۔
8
فلما جاءها نودي أن بورك من في النار ومن حولها وسبحان الله رب العالمين
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
ابن کثیر ↑
9
يا موسى إنه أنا الله العزيز الحكيم
اے موسیٰ! بے شک حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
ابن کثیر ↑
10
وألق عصاك فلما رآها تهتز كأنها جان ولى مدبرا ولم يعقب يا موسى لا تخف إني لا يخاف لدي المرسلون
اور اپنی لاٹھی پھینک۔ تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے، جیسے وہ ایک سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر لوٹا اور واپس نہیں مڑا۔ اے موسیٰ! مت ڈر، بے شک میں، میرے پاس رسول نہیں ڈرتے۔
ابن کثیر ↑
11
إلا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء فإني غفور رحيم
مگر جس نے ظلم کیا، پھر برائی کے بعد بدل کر نیکی کی تو بے شک میں بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہوں۔
ابن کثیر ↑
12
وأدخل يدك في جيبك تخرج بيضاء من غير سوء في تسع آيات إلى فرعون وقومه إنهم كانوا قوما فاسقين
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، کسی عیب کے بغیر (چمکتا ہوا) سفید نکلے گا، نو نشانیوں میں، فرعون اور اس کی قوم کی طرف۔ بلاشبہ وہ نافرمان لوگ تھے۔
ابن کثیر ↑
13
فلما جاءتهم آياتنا مبصرة قالوا هذا سحر مبين
تو جب ان کے پاس ہماری نشانیاں آنکھیں کھول دینے والی پہنچیں تو انھوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔
ابن کثیر ↑
14
وجحدوا بها واستيقنتها أنفسهم ظلما وعلوا فانظر كيف كان عاقبة المفسدين
اور انھوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کر دیا، حالانکہ ان کے دل ان کا اچھی طرح یقین کر چکے تھے، پس دیکھ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
ابن کثیر ↑
15
ولقد آتينا داوود وسليمان علما وقالا الحمد لله الذي فضلنا على كثير من عباده المؤمنين
اور بلاشبہ یقینا ہم نے دائود اور سلیمان کو ایک علم دیا اور ان دونوں نے کہا تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔
16
وورث سليمان داوود وقال يا أيها الناس علمنا منطق الطير وأوتينا من كل شيء إن هذا لهو الفضل المبين
اور سلیمان دائود کا وارث بنا اور اس نے کہا اے لوگو!ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہمیں ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔ بے شک یہ یقینا یہی واضح فضل ہے۔
ابن کثیر ↑
17
وحشر لسليمان جنوده من الجن والإنس والطير فهم يوزعون
اور سلیمان کے لیے اس کے لشکر جمع کیے گئے، جو جنوں اور انسانوں اور پرندوںسے تھے، پھر وہ الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے۔
ابن کثیر ↑
18
حتى إذا أتوا على واد النمل قالت نملة يا أيها النمل ادخلوا مساكنكم لا يحطمنكم سليمان وجنوده وهم لا يشعرون
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جائو، کہیں سلیمان اوراس کے لشکر تمھیں کچل نہ دیں اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں۔
ابن کثیر ↑
19
فتبسم ضاحكا من قولها وقال رب أوزعني أن أشكر نعمتك التي أنعمت علي وعلى والدي وأن أعمل صالحا ترضاه وأدخلني برحمتك في عبادك الصالحين
تو وہ اس کی بات سے ہنستا ہوا مسکرایا اور اس نے کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں، جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہے اور یہ کہ میں نیک عمل کروں، جسے تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔
ابن کثیر ↑
20
وتفقد الطير فقال ما لي لا أرى الهدهد أم كان من الغائبين
اور اس نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا مجھے کیا ہے کہ میں فلاں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا، یا وہ غائب ہونے والوں سے ہے۔
21
لأعذبنه عذابا شديدا أو لأذبحنه أو ليأتيني بسلطان مبين
یقینا میں اسے ضرور سزا دوں گا، بہت سخت سزا، یا میں ضرور ہی اسے ذبح کر دوں گا، یا وہ ضرور ہی میرے پاس کوئی واضح دلیل لے کر آئے گا۔
ابن کثیر ↑
22
فمكث غير بعيد فقال أحطت بما لم تحط به وجئتك من سبإ بنبإ يقين
پس وہ کچھ دیر ٹھہرا، جو زیادہ نہ تھی، پھر اس نے کہا میں نے اس بات کا احاطہ کیا ہے جس کا احاطہ تو نے نہیں کیا اور میں تیرے پاس سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں۔
23
إني وجدت امرأة تملكهم وأوتيت من كل شيء ولها عرش عظيم
بے شک میں نے ایک عورت کو پایا کہ ان پر حکومت کر رہی ہے اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے۔
ابن کثیر ↑
24
وجدتها وقومها يسجدون للشمس من دون الله وزين لهم الشيطان أعمالهم فصدهم عن السبيل فهم لا يهتدون
میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال مزین کر دیے ہیں، پس انھیں اصل راستے سے روک دیا ہے، پس وہ ہدایت نہیں پاتے۔
ابن کثیر ↑
25
ألا يسجدوا لله الذي يخرج الخبء في السماوات والأرض ويعلم ما تخفون وما تعلنون
تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو نکالتا ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔
ابن کثیر ↑
26
الله لا إله إلا هو رب العرش العظيم
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔
ابن کثیر ↑
27
قال سننظر أصدقت أم كنت من الكاذبين
کہا عنقریب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا، یا تو جھوٹوں سے تھا۔
28
اذهب بكتابي هذا فألقه إليهم ثم تول عنهم فانظر ماذا يرجعون
میرا یہ خط لے جا، پس اسے ان کی طرف پھینک دے، پھر ان سے لوٹ آ، پس دیکھ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
29
قالت يا أيها الملأ إني ألقي إلي كتاب كريم
اس (ملکہ) نے کہا اے سردارو! بے شک میری طرف ایک بہت عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔
ابن کثیر ↑
30
إنه من سليمان وإنه بسم الله الرحمن الرحيم
بے شک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بے شک وہ اللہ کے نام سے ہے، جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔
ابن کثیر ↑
31
ألا تعلوا علي وأتوني مسلمين
یہ کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرماں بردار بن کر میرے پاس آجاؤ۔
ابن کثیر ↑
32
قالت يا أيها الملأ أفتوني في أمري ما كنت قاطعة أمرا حتى تشهدون
کہا اے سردارو! تم میرے معاملے میں مجھے حل بتاؤ، میں کبھی کسی معاملے کافیصلہ کرنے والی نہیں، یہاں تک کہ تم میرے پاس موجود ہو۔
33
قالوا نحن أولو قوة وأولو بأس شديد والأمر إليك فانظري ماذا تأمرين
انھوں نے کہا ہم بڑی قوت والے اور بہت سخت جنگ والے ہیں اور معاملہ تیرے سپرد ہے، سو دیکھ تو کیا حکم دیتی ہے۔
ابن کثیر ↑
34
قالت إن الملوك إذا دخلوا قرية أفسدوها وجعلوا أعزة أهلها أذلة وكذلك يفعلون
اس نے کہا بے شک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے خراب کر دیتے ہیں اور اس کے رہنے والوں میں سے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور اسی طرح یہ کریں گے۔
ابن کثیر ↑
35
وإني مرسلة إليهم بهدية فناظرة بم يرجع المرسلون
اور بے شک میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجنے والی ہوں، پھر انتظار کرنے والی ہوں کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
36
فلما جاء سليمان قال أتمدونن بمال فما آتاني الله خير مما آتاكم بل أنتم بهديتكم تفرحون
تو جب وہ سلیمان کے پاس آیا تو اس نے کہا کیا تم مال کے ساتھ میری مدد کرتے ہو؟ تو جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے، بلکہ تم ہی اپنے تحفے پر خوش ہوتے ہو۔
ابن کثیر ↑
37
ارجع إليهم فلنأتينهم بجنود لا قبل لهم بها ولنخرجنهم منها أذلة وهم صاغرون
ان کے پاس واپس جا، اب ہر صورت ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں کوئی طاقت نہیں اور ہر صورت انھیں اس سے اس حال میں ذلیل کر کے نکالیں گے کہ وہ حقیر ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
38
قال يا أيها الملأ أيكم يأتيني بعرشها قبل أن يأتوني مسلمين
کہا اے سردارو! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لے کر آئے گا، اس سے پہلے کہ وہ فرماں بردار ہو کر میرے پاس آئیں؟
39
قال عفريت من الجن أنا آتيك به قبل أن تقوم من مقامك وإني عليه لقوي أمين
جنوں میں سے ایک طاقت ور شرارتی کہنے لگا میں اسے تیرے پاس اس سے پہلے لے آؤں گا کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے اور بلاشبہ میں اس پر یقینا پوری قوت رکھنے والا، امانت دار ہوں۔
ابن کثیر ↑
40
قال الذي عنده علم من الكتاب أنا آتيك به قبل أن يرتد إليك طرفك فلما رآه مستقرا عنده قال هذا من فضل ربي ليبلوني أأشكر أم أكفر ومن شكر فإنما يشكر لنفسه ومن كفر فإن ربي غني كريم
اس نے کہا جس کے پاس کتاب کا ایک علم تھا، میں اسے تیرے پاس اس سے پہلے لے آتا ہوں کہ تیری آنکھ تیری طرف جھپکے۔ پس جب اس نے اسے اپنے پاس پڑا ہوا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتاہوں، یا نا شکری کرتا ہوں اور جس نے شکر کیا تو وہ اپنے ہی لیے شکرکرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو یقینا میرا رب بہت بے پروا، بہت کرم والا ہے۔
ابن کثیر ↑
41
قال نكروا لها عرشها ننظر أتهتدي أم تكون من الذين لا يهتدون
کہا اس کا تخت اس کے لیے بے پہچان کر دو، تاکہ ہم دیکھیں کیا وہ راہ پر آتی ہے، یا ان لوگوں سے ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے۔
42
فلما جاءت قيل أهكذا عرشك قالت كأنه هو وأوتينا العلم من قبلها وكنا مسلمين
پھر جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہم اس سے پہلے علم دیے گئے تھے اورہم فرماں بردار تھے۔
ابن کثیر ↑
43
وصدها ما كانت تعبد من دون الله إنها كانت من قوم كافرين
اور اسے اس چیز نے روکے رکھا جس کی عبادت وہ اللہ کے سوا کرتی تھی، بلاشبہ وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔
ابن کثیر ↑
44
قيل لها ادخلي الصرح فلما رأته حسبته لجة وكشفت عن ساقيها قال إنه صرح ممرد من قوارير قالت رب إني ظلمت نفسي وأسلمت مع سليمان لله رب العالمين
اس سے کہا گیا اس محل میں داخل ہو جا۔ تو جب اس نے اسے دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا۔ اس نے کہا یہ توشیشوں کا ملائم بنایا ہوا فرش ہے۔ اس (ملکہ) نے کہا اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے فرماں بردار ہو گئی۔
ابن کثیر ↑
45
ولقد أرسلنا إلى ثمود أخاهم صالحا أن اعبدوا الله فإذا هم فريقان يختصمون
اور بلاشبہ یقینا ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو اچانک وہ دو گروہ ہو کر جھگڑ رہے تھے۔
46
قال يا قوم لم تستعجلون بالسيئة قبل الحسنة لولا تستغفرون الله لعلكم ترحمون
کہا اے میری قوم! تم بھلائی سے پہلے برائی کیوں جلدی مانگتے ہو، تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
ابن کثیر ↑
47
قالوا اطيرنا بك وبمن معك قال طائركم عند الله بل أنتم قوم تفتنون
انھوں نے کہا ہم نے تیرے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں، بدشگونی پکڑی ہے۔ کہا تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے، بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائے جا رہے ہو۔
ابن کثیر ↑
48
وكان في المدينة تسعة رهط يفسدون في الأرض ولا يصلحون
اور اس شہر میں نو(۹) شخص تھے، جو اس سرزمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔
49
قالوا تقاسموا بالله لنبيتنه وأهله ثم لنقولن لوليه ما شهدنا مهلك أهله وإنا لصادقون
انھوں نے کہا آپس میں اللہ کی قسم کھائو کہ ہم ضرور ہی اس پر اور اس کے گھر والوں پر رات حملہ کریں گے، پھر ضرور ہی اس کے وارث سے کہہ دیں گے ہم اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور بلاشبہ ہم ضرور سچے ہیں۔
ابن کثیر ↑
50
ومكروا مكرا ومكرنا مكرا وهم لا يشعرون
اور انھوں نے ایک چال چلی اور ہم نے بھی ایک چال چلی اور وہ سوچتے تک نہ تھے۔
ابن کثیر ↑