🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة لقمان
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
الم
الم۔
2
تلك آيات الكتاب الحكيم
یہ کمال حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔
ابن کثیر ↑
3
هدى ورحمة للمحسنين
نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔
ابن کثیر ↑
4
الذين يقيمون الصلاة ويؤتون الزكاة وهم بالآخرة هم يوقنون
وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین بھی وہی رکھتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
5
أولئك على هدى من ربهم وأولئك هم المفلحون
یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے سراسر ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
6
ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم ويتخذها هزوا أولئك لهم عذاب مهين
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اور اسے مذاق بنائے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
7
وإذا تتلى عليه آياتنا ولى مستكبرا كأن لم يسمعها كأن في أذنيه وقرا فبشره بعذاب أليم
اور جب اس پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے، گویا اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہے، سو اسے دردناک عذاب کی خوش خبری دے دے۔
ابن کثیر ↑
8
إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات لهم جنات النعيم
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں۔
9
خالدين فيها وعد الله حقا وهو العزيز الحكيم
ہمیشہ ان میں رہنے والے۔ اللہ کا وعدہ ہے سچا اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
ابن کثیر ↑
10
خلق السماوات بغير عمد ترونها وألقى في الأرض رواسي أن تميد بكم وبث فيها من كل دابة وأنزلنا من السماء ماء فأنبتنا فيها من كل زوج كريم
اس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا، جنھیں تم دیکھتے ہو اور زمین میں پہاڑ رکھ دیے، تاکہ وہ تمھیں ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس میں ہر طرح کی عمدہ قسم اگائی۔
11
هذا خلق الله فأروني ماذا خلق الذين من دونه بل الظالمون في ضلال مبين
یہ ہے اللہ کی مخلوق، تو تم مجھے دکھائو کہ ان لوگوں نے جو اس کے سوا ہیں کیا پیدا کیا ہے؟ بلکہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
ابن کثیر ↑
12
ولقد آتينا لقمان الحكمة أن اشكر لله ومن يشكر فإنما يشكر لنفسه ومن كفر فإن الله غني حميد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی کہ اللہ کا شکر کر اور جو شکر کرے تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو یقینا اللہ بہت بے پروا ، بہت تعریفوں والا ہے۔
13
وإذ قال لقمان لابنه وهو يعظه يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم
اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا، جب کہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا اے میرے چھوٹے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔
14
ووصينا الإنسان بوالديه حملته أمه وهنا على وهن وفصاله في عامين أن اشكر لي ولوالديك إلي المصير
اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے، اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کی حالت میں اسے اٹھائے رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے کہ میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا ۔ میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
ابن کثیر ↑
15
وإن جاهداك على أن تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما وصاحبهما في الدنيا معروفا واتبع سبيل من أناب إلي ثم إلي مرجعكم فأنبئكم بما كنتم تعملون
اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان اور دنیا میں اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہ اور اس شخص کے راستے پر چل جو میری طرف رجوع کرتا ہے، پھر میری ہی طرف تمھیں لوٹ کر آنا ہے، تو میں تمھیں بتاؤں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
16
يا بني إنها إن تك مثقال حبة من خردل فتكن في صخرة أو في السماوات أو في الأرض يأت بها الله إن الله لطيف خبير
اے میرے چھوٹے بیٹے! بے شک کوئی چیز اگر رائی کے دانے کے وزن کی ہو ، پس کسی چٹان میں ہو، یا آسمانوں میں، یا زمین میں تو اسے اللہ لے آئے گا ، بلاشبہ اللہ بڑا باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
17
يا بني أقم الصلاة وأمر بالمعروف وانه عن المنكر واصبر على ما أصابك إن ذلك من عزم الأمور
اے میرے چھوٹے بیٹے! نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور اس (مصیبت) پر صبر کر جو تجھے پہنچے، یقینا یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔
ابن کثیر ↑
18
ولا تصعر خدك للناس ولا تمش في الأرض مرحا إن الله لا يحب كل مختال فخور
اور لوگوں کے لیے اپنا رخسار نہ پھلا اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔
ابن کثیر ↑
19
واقصد في مشيك واغضض من صوتك إن أنكر الأصوات لصوت الحمير
اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بے شک سب آوازوں سے بری یقینا گدھے کی آواز ہے۔
ابن کثیر ↑
20
ألم تروا أن الله سخر لكم ما في السماوات وما في الأرض وأسبغ عليكم نعمه ظاهرة وباطنة ومن الناس من يجادل في الله بغير علم ولا هدى ولا كتاب منير
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے تمھاری خاطر مسخر کر دیا اور تم پر اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں پوری کر دیں، اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم اور بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔
21
وإذا قيل لهم اتبعوا ما أنزل الله قالوا بل نتبع ما وجدنا عليه آباءنا أولو كان الشيطان يدعوهم إلى عذاب السعير
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور کیا اگرچہ شیطان انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو؟
ابن کثیر ↑
22
ومن يسلم وجهه إلى الله وهو محسن فقد استمسك بالعروة الوثقى وإلى الله عاقبة الأمور
اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیکی کرنے والا ہو تو یقینا اس نے مضبوط کڑے کو اچھی طرح پکڑ لیا اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔
ابن کثیر ↑
23
ومن كفر فلا يحزنك كفره إلينا مرجعهم فننبئهم بما عملوا إن الله عليم بذات الصدور
اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر تجھے غم میں نہ ڈالے، ہماری ہی طرف ان کا لوٹ کر آنا ہے، پھر ہم انھیں بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا۔ بے شک اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
24
نمتعهم قليلا ثم نضطرهم إلى عذاب غليظ
ہم انھیں تھوڑا سا سامان دیں گے، پھر انھیں ایک بہت سخت عذاب کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے۔
ابن کثیر ↑
25
ولئن سألتهم من خلق السماوات والأرض ليقولن الله قل الحمد لله بل أكثرهم لا يعلمون
اوربلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
26
لله ما في السماوات والأرض إن الله هو الغني الحميد
اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ ہی سب سے بے پروا، بے حد خوبیوں والا ہے۔
ابن کثیر ↑
27
ولو أنما في الأرض من شجرة أقلام والبحر يمده من بعده سبعة أبحر ما نفدت كلمات الله إن الله عزيز حكيم
اور اگر ایسا ہو کہ زمین میں جو بھی درخت ہیں قلمیں ہوں اور سمندر اس کی سیاہی ہو، جس کے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی، یقینا اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔
28
ما خلقكم ولا بعثكم إلا كنفس واحدة إن الله سميع بصير
نہیں ہے تمھارا پیدا کرنا اور نہ تمھارا اٹھانا مگر ایک جان کی طرح۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
29
ألم تر أن الله يولج الليل في النهار ويولج النهار في الليل وسخر الشمس والقمر كل يجري إلى أجل مسمى وأن الله بما تعملون خبير
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے، ہر ایک ایک مقرر وقت تک چل رہا ہے اور یہ کہ اللہ اس سے جو تم کرتے ہو پورا باخبر ہے۔
30
ذلك بأن الله هو الحق وأن ما يدعون من دونه الباطل وأن الله هو العلي الكبير
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ اس کے سوا وہ جس کو پکارتے ہیں وہی باطل ہے اور یہ کہ اللہ ہی بے حد بلند، بے حد بڑا ہے۔
ابن کثیر ↑
31
ألم تر أن الفلك تجري في البحر بنعمت الله ليريكم من آياته إن في ذلك لآيات لكل صبار شكور
کیا تونے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اللہ کی نعمت سے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بے شک اس میں ہر بڑے صابر، بڑے شاکر کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
32
وإذا غشيهم موج كالظلل دعوا الله مخلصين له الدين فلما نجاهم إلى البر فمنهم مقتصد وما يجحد بآياتنا إلا كل ختار كفور
اور جب انھیں سائبانوں جیسی کوئی موج ڈھانپ لیتی ہے تو اللہ کو پکارتے ہیں، اس حال میں کہ دین کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوتے ہیں، پھر جب وہ انھیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی سیدھی راہ پر قائم رہنے والے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو نہایت عہد توڑنے والا، بے حد ناشکرا ہو۔
ابن کثیر ↑
33
يا أيها الناس اتقوا ربكم واخشوا يوما لا يجزي والد عن ولده ولا مولود هو جاز عن والده شيئا إن وعد الله حق فلا تغرنكم الحياة الدنيا ولا يغرنكم بالله الغرور
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو کہ نہ باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی ایسا ہوگا جو اپنے باپ کے کسی کام آنے والا ہو۔ یقینا اللہ کا وعدہ سچ ہے، تو کہیں دنیا کی زندگی تمھیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور کہیں وہ دغا باز اللہ کے بارے میں تمھیں دھوکا نہ دے جائے۔
34
إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبير
بے شک اللہ، اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ مائوں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔