🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر ابن کثیر
سورة لقمان
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۶﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ، تو کہہ دیجئے کہ سب تعریفوں کے ﻻئق اللہ ہی ہے، لیکن ان میں کے اکثر بے علم ہیں[25]آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وه سب اللہ ہی کا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بڑا بے نیاز اور سزاوار حمد وﺛنا ہے[26]
......
[ترجمہ فتح محمد جالندھری] اور اگر تم اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو بول اُٹھیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے[25]جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے۔ بیشک خدا بےپروا اور سزا وارِ حمد (وثنا) ہے[26]
......
[ترجمہ عبدالسلام بن محمد] اوربلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔[25]اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ ہی سب سے بے پروا، بے حد خوبیوں والا ہے۔[26]
......
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 25،26
حاکم اعلی وہ اللہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ان کی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے ‘۔
بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بے علم ہوتے ہیں، زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔