🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الأحقاف
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
حم
حم۔
2
تنزيل الكتاب من الله العزيز الحكيم
اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
ابن کثیر ↑
3
ما خلقنا السماوات والأرض وما بينهما إلا بالحق وأجل مسمى والذين كفروا عما أنذروا معرضون
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقرر ہ میعاد ہی کے ساتھ پیداکیا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
4
قل أرأيتم ما تدعون من دون الله أروني ماذا خلقوا من الأرض أم لهم شرك في السماوات ائتوني بكتاب من قبل هذا أو أثارة من علم إن كنتم صادقين
کہہ دے کیا تم نے دیکھا جن چیزوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین میں سے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ لاؤ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب، یا علم کی کوئی نقل شدہ بات، اگر تم سچے ہو۔
5
ومن أضل ممن يدعو من دون الله من لا يستجيب له إلى يوم القيامة وهم عن دعائهم غافلون
اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔
ابن کثیر ↑
6
وإذا حشر الناس كانوا لهم أعداء وكانوا بعبادتهم كافرين
اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
7
وإذا تتلى عليهم آياتنا بينات قال الذين كفروا للحق لما جاءهم هذا سحر مبين
اورجب ان کے سامنے ہماری واضح آیا ت پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔
8
أم يقولون افتراه قل إن افتريته فلا تملكون لي من الله شيئا هو أعلم بما تفيضون فيه كفى به شهيدا بيني وبينكم وهو الغفور الرحيم
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے توتم میرے لیے اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، وہ ان باتوں کو زیادہ جاننے والا ہے جن میں تم مشغول ہوتے ہو، وہی میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کے طور پر کافی ہے اور وہی بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
ابن کثیر ↑
9
قل ما كنت بدعا من الرسل وما أدري ما يفعل بي ولا بكم إن أتبع إلا ما يوحى إلي وما أنا إلا نذير مبين
کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمھارے ساتھ (کیا)، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔
ابن کثیر ↑
10
قل أرأيتم إن كان من عند الله وكفرتم به وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کر دیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس جیسے (قرآن) کی شہادت دی، پھر وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا( تو تمھارا انجا م کیا ہوگا) بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
11
وقال الذين كفروا للذين آمنوا لو كان خيرا ما سبقونا إليه وإذ لم يهتدوا به فسيقولون هذا إفك قديم
اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے اگر یہ کچھ بھی بہتر ہوتا تو یہ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے اورجب انھوں نے اس سے ہدایت نہیں پائی تو ضرور کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔
ابن کثیر ↑
12
ومن قبله كتاب موسى إماما ورحمة وهذا كتاب مصدق لسانا عربيا لينذر الذين ظلموا وبشرى للمحسنين
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ ایک تصدیق کرنے والی کتاب عربی زبان میں ہے، تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے ظلم کیا اور نیکی کرنے والوں کے لیے بشارت ہو۔
13
إن الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
14
أولئك أصحاب الجنة خالدين فيها جزاء بما كانوا يعملون
یہ لوگ جنت والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہنے والے، اس کے بدلے کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
15
ووصينا الإنسان بوالديه إحسانا حملته أمه كرها ووضعته كرها وحمله وفصاله ثلاثون شهرا حتى إذا بلغ أشده وبلغ أربعين سنة قال رب أوزعني أن أشكر نعمتك التي أنعمت علي وعلى والدي وأن أعمل صالحا ترضاه وأصلح لي في ذريتي إني تبت إليك وإني من المسلمين
اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی، اس کی ماں نے اسے ناگواری کی حالت میں اٹھائے رکھا اور اسے ناگواری کی حالت میں جنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچا اور چالیس برس کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح فرما دے، بے شک میں نے تیری طرف توبہ کی اور بے شک میں حکم ماننے والوں سے ہوں۔
16
أولئك الذين نتقبل عنهم أحسن ما عملوا ونتجاوز عن سيئاتهم في أصحاب الجنة وعد الصدق الذي كانوا يوعدون
یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان سے وہ سب سے اچھے عمل قبول کرتے ہیں جو انھوں نے کیے اور ان کی برائیوں سے در گزر کرتے ہیں، جنت والوں میں، سچے وعدے کے مطابق جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
ابن کثیر ↑
17
والذي قال لوالديه أف لكما أتعدانني أن أخرج وقد خلت القرون من قبلي وهما يستغيثان الله ويلك آمن إن وعد الله حق فيقول ما هذا إلا أساطير الأولين
اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف ہے تم دونوں کے لیے! کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو کہ مجھے( قبر سے) نکالا جائے گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکیں۔ جب کہ وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے (ہوئے کہتے) ہیں تجھے ہلاکت ہو! ایما ن لے آ، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ کہتا ہے یہ پہلے لوگوں کی فرضی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔
18
أولئك الذين حق عليهم القول في أمم قد خلت من قبلهم من الجن والإنس إنهم كانوا خاسرين
یہی وہ لوگ ہیں جن پر بات ثابت ہو گئی ان امتوں سمیت جو جن و انس میں سے ان سے پہلے گزر چکیں، یقینا وہ خسارہ پانے والے تھے۔
ابن کثیر ↑
19
ولكل درجات مما عملوا وليوفيهم أعمالهم وهم لا يظلمون
اور ہر ایک کے لیے الگ الگ درجے ہیں، ان اعمال کی وجہ سے جو انھوں نے کیے اور تاکہ اللہ انھیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
20
ويوم يعرض الذين كفروا على النار أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا واستمتعتم بها فاليوم تجزون عذاب الهون بما كنتم تستكبرون في الأرض بغير الحق وبما كنتم تفسقون
اور جس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جا چکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے، سو آج تمھیں ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا، اس لیے کہ تم زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
21
واذكر أخا عاد إذ أنذر قومه بالأحقاف وقد خلت النذر من بين يديه ومن خلفه ألا تعبدوا إلا الله إني أخاف عليكم عذاب يوم عظيم
اور عاد کے بھائی کو یاد کر جب اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا، جب کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی ڈرانے والے گزر چکے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، بے شک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
22
قالوا أجئتنا لتأفكنا عن آلهتنا فأتنا بما تعدنا إن كنت من الصادقين
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا دے، سو ہم پر وہ( عذاب) لے آ جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔
ابن کثیر ↑
23
قال إنما العلم عند الله وأبلغكم ما أرسلت به ولكني أراكم قوما تجهلون
اس نے کہا یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تمھیں وہ پیغام پہنچاتا ہوں جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے اور لیکن میں تمھیں ایسے لوگ دیکھتا ہوں کہ تم جہالت برتتے ہو۔
ابن کثیر ↑
24
فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به ريح فيها عذاب أليم
تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ(عذاب) ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے۔
ابن کثیر ↑
25
تدمر كل شيء بأمر ربها فأصبحوا لا يرى إلا مساكنهم كذلك نجزي القوم المجرمين
جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
26
ولقد مكناهم فيما إن مكناكم فيه وجعلنا لهم سمعا وأبصارا وأفئدة فما أغنى عنهم سمعهم ولا أبصارهم ولا أفئدتهم من شيء إذ كانوا يجحدون بآيات الله وحاق بهم ما كانوا به يستهزئون
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں ان چیزوں میں قدرت دی جن میں ہم نے تمھیں قدرت نہیں دی اور ہم نے ان کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو نہ ان کے کان ان کے کسی کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور انھیں اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
27
ولقد أهلكنا ما حولكم من القرى وصرفنا الآيات لعلهم يرجعون
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھارے اردگرد کی بستیوں کو ہلاک کر دیا اور ہم نے پھیر پھیر کر آیات بیان کیں، شاید وہ لوٹ آئیں۔
ابن کثیر ↑
28
فلولا نصرهم الذين اتخذوا من دون الله قربانا آلهة بل ضلوا عنهم وذلك إفكهم وما كانوا يفترون
پھر ان لوگوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جنھیں انھوں نے قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا؟ بلکہ وہ ان سے گم ہو گئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو وہ بہتان باندھتے تھے۔
ابن کثیر ↑
29
وإذ صرفنا إليك نفرا من الجن يستمعون القرآن فلما حضروه قالوا أنصتوا فلما قضي ولوا إلى قومهم منذرين
اور جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو تیری طرف پھیرا، جو قرآن غور سے سنتے تھے تو جب وہ اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا خاموش ہو جاؤ، پھر جب وہ پورا کیا گیا تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر واپس لوٹے۔
30
قالوا يا قومنا إنا سمعنا كتابا أنزل من بعد موسى مصدقا لما بين يديه يهدي إلى الحق وإلى طريق مستقيم
انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے، وہ حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
31
يا قومنا أجيبوا داعي الله وآمنوا به يغفر لكم من ذنوبكم ويجركم من عذاب أليم
اے ہماری قوم !اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لے آؤ، وہ تمھیں تمھارے گناہ معاف کر دے گا اور تمھیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔
ابن کثیر ↑
32
ومن لا يجب داعي الله فليس بمعجز في الأرض وليس له من دونه أولياء أولئك في ضلال مبين
اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول نہ کرے گا تو نہ وہ زمین میں کسی طرح عاجز کرنے والا ہے اور نہ ہی اس کے سوا اس کے کوئی مدد گار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
ابن کثیر ↑
33
أولم يروا أن الله الذي خلق السماوات والأرض ولم يعي بخلقهن بقادر على أن يحيي الموتى بلى إنه على كل شيء قدير
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں! یقینا وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
34
ويوم يعرض الذين كفروا على النار أليس هذا بالحق قالوا بلى وربنا قال فذوقوا العذاب بما كنتم تكفرون
اور جس دن وہ لوگ جنھوںنے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، کیا یہ حق نہیں ہے؟ کہیں گے کیوں نہیں، ہمارے رب کی قسم! وہ کہے گا پھر چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
35
فاصبر كما صبر أولو العزم من الرسل ولا تستعجل لهم كأنهم يوم يرون ما يوعدون لم يلبثوا إلا ساعة من نهار بلاغ فهل يهلك إلا القوم الفاسقون
پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کر، جس دن وہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو گویا وہ دن کی ایک گھڑی کے سوا نہیں رہے۔ یہ پہنچا دینا ہے، پھر کیا نافرمان لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک کیا جائے گا؟