Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة القلم
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
ن والقلم وما يسطرون
ن۔ قسم ہے قلم کی! اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں!
2
ما أنت بنعمة ربك بمجنون
کہ تو اپنے رب کی نعمت سے ہرگز دیوانہ نہیں ہے۔
ابن کثیر ↑
3
وإن لك لأجرا غير ممنون
اور بے شک تیرے لیے یقینا ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں۔
ابن کثیر ↑
4
وإنك لعلى خلق عظيم
اور بلاشبہ یقینا تو ایک بڑے خلق پر ہے۔
ابن کثیر ↑
5
فستبصر ويبصرون
پس جلد ہی تو دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔
ابن کثیر ↑
6
بأييكم المفتون
کہ تم میں سے کون فتنے میں ڈالا ہوا ہے۔
ابن کثیر ↑
7
إن ربك هو أعلم بمن ضل عن سبيله وهو أعلم بالمهتدين
یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اس کو جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے ان کو جو سیدھی راہ پر ہیں۔
ابن کثیر ↑
8
فلا تطع المكذبين
پس تو ان جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان۔
9
ودوا لو تدهن فيدهنون
وہ چاہتے ہیں کاش! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔
ابن کثیر ↑
10
ولا تطع كل حلاف مهين
اور تو کسی بہت قسمیں کھانے والے ذلیل کا کہنا مت مان۔
ابن کثیر ↑
11
هماز مشاء بنميم
جو بہت طعنہ دینے والا، چغلی میں بہت دوڑ دھوپ کرنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
12
مناع للخير معتد أثيم
خیر کو بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، سخت گناہ گار ہے۔
ابن کثیر ↑
13
عتل بعد ذلك زنيم
سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدنام ہے۔
ابن کثیر ↑
14
أن كان ذا مال وبنين
اس لیے کہ وہ مال اور بیٹوں والا رہا ہے۔
ابن کثیر ↑
15
إذا تتلى عليه آياتنا قال أساطير الأولين
جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
ابن کثیر ↑
16
سنسمه على الخرطوم
جلد ہی ہم اسے تھوتھنی پر داغ لگائیں گے۔
ابن کثیر ↑
17
إنا بلوناهم كما بلونا أصحاب الجنة إذ أقسموا ليصرمنها مصبحين
یقینا ہم نے انھیں آزمایا ہے، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہوتے اس کا پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔
18
ولا يستثنون
اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔
ابن کثیر ↑
19
فطاف عليها طائف من ربك وهم نائمون
پس اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک اچانک عذاب پھر گیا، جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔
ابن کثیر ↑
20
فأصبحت كالصريم
تو صبح کووہ (باغ) کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہو گیا۔
ابن کثیر ↑
21
فتنادوا مصبحين
پھر انھوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو آواز دی۔
ابن کثیر ↑
22
أن اغدوا على حرثكم إن كنتم صارمين
کہ صبح صبح اپنے کھیت پر جا پہنچو، اگرتم پھل توڑنے والے ہو۔
ابن کثیر ↑
23
فانطلقوا وهم يتخافتون
چنانچہ وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔
ابن کثیر ↑
24
أن لا يدخلنها اليوم عليكم مسكين
کہ آج اس (باغ) میں تمھارے پاس کوئی مسکین ہر گز داخل نہ ہونے پائے۔
ابن کثیر ↑
25
وغدوا على حرد قادرين
اور وہ صبح سویرے پختہ ارادے کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں پھل توڑنے پر) قادر تھے۔
ابن کثیر ↑
26
فلما رأوها قالوا إنا لضالون
پس جب انھوں نے اسے دیکھا تو انھوں نے کہا بلاشبہ ہم یقینا راستہ بھولے ہوئے ہیں۔
27
بل نحن محرومون
بلکہ ہم بے نصیب ہیں۔
ابن کثیر ↑
28
قال أوسطهم ألم أقل لكم لولا تسبحون
ان میں سے بہتر نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے۔
ابن کثیر ↑
29
قالوا سبحان ربنا إنا كنا ظالمين
انھوں نے کہا ہمارا رب پاک ہے، بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔
ابن کثیر ↑
30
فأقبل بعضهم على بعض يتلاومون
پھر ان کا ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوا،آپس میں ملامت کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
31
قالوا يا ويلنا إنا كنا طاغين
انھوں نے کہا ہائے ہماری ہلاکت! یقینا ہم ہی حد سے بڑھے ہوئے تھے۔
ابن کثیر ↑
32
عسى ربنا أن يبدلنا خيرا منها إنا إلى ربنا راغبون
امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔یقینا (اب) ہم اپنے رب ہی کی طرف راغب ہونے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
33
كذلك العذاب ولعذاب الآخرة أكبر لو كانوا يعلمون
اسی طرح (ہوتا) ہے عذاب۔ اور یقینا آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش ! وہ جانتے ہوتے۔
ابن کثیر ↑
34
إن للمتقين عند ربهم جنات النعيم
بلاشبہ ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمت والے باغات ہیں۔
35
أفنجعل المسلمين كالمجرمين
تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کر دیں گے؟
ابن کثیر ↑
36
ما لكم كيف تحكمون
کیا ہے تمھیں، تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟
ابن کثیر ↑
37
أم لكم كتاب فيه تدرسون
یا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے، جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو۔
ابن کثیر ↑
38
إن لكم فيه لما تخيرون
کہ بے شک تمھارے لیے آخرت میں یقینا وہی ہو گا جو تم پسند کرو گے۔
ابن کثیر ↑
39
أم لكم أيمان علينا بالغة إلى يوم القيامة إن لكم لما تحكمون
یا تمھارے پاس ہمارے ذمے کوئی حلفیہ عہد ہیں، جو قیامت کے دن تک جاپہنچنے والے ہیں کہ بے شک تمھارے لیے یقینا وہی ہوگا جو تم فیصلہ کرو گے۔
ابن کثیر ↑
40
سلهم أيهم بذلك زعيم
ان سے پوچھ ان میں سے کون اس کا ضامن ہے؟
ابن کثیر ↑
41
أم لهم شركاء فليأتوا بشركائهم إن كانوا صادقين
یا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو وہ اپنے شریک لے آئیں، اگر وہ سچے ہیں۔
ابن کثیر ↑
42
يوم يكشف عن ساق ويدعون إلى السجود فلا يستطيعون
جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور وہ سجدے کی طرف بلائے جائیں گے تو وہ طاقت نہیں رکھیں گے۔
43
خاشعة أبصارهم ترهقهم ذلة وقد كانوا يدعون إلى السجود وهم سالمون
ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہو گی، حالانکہ انھیں سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا، جب کہ وہ صحیح سالم تھے۔
ابن کثیر ↑
44
فذرني ومن يكذب بهذا الحديث سنستدرجهم من حيث لا يعلمون
پس چھوڑ مجھے اور اس کو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے، ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ (ہلاکت کی طرف) اس طرح سے لے جائیں گے کہ وہ نہیں جانیں گے۔
ابن کثیر ↑
45
وأملي لهم إن كيدي متين
اور میں انھیں مہلت دوں گا، یقیناً میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔
ابن کثیر ↑
46
أم تسألهم أجرا فهم من مغرم مثقلون
یا تو ان سے کوئی مزدوری طلب کرتا ہے کہ وہ تاوان سے بوجھل ہیں۔
ابن کثیر ↑
47
أم عندهم الغيب فهم يكتبون
یا ان کے پاس غیب کا علم ہے، تو وہ لکھتے جا تے ہیں۔
ابن کثیر ↑
48
فاصبر لحكم ربك ولا تكن كصاحب الحوت إذ نادى وهو مكظوم
پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو، جب اس نے پکارا، اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔
49
لولا أن تداركه نعمة من ربه لنبذ بالعراء وهو مذموم
اگر یہ نہ ہوتا کہ اسے اس کے رب کی نعمت نے سنبھال لیا تو یقینا وہ چٹیل زمین پر اس حال میں پھینکا جاتا کہ وہ مذمت کیا ہوا ہوتا۔
ابن کثیر ↑
50
فاجتباه ربه فجعله من الصالحين
پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کر دیا۔
ابن کثیر ↑