قرآن مجيد
سورة القلم
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
ن۔ قسم ہے قلم کی! اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں!
|
|
2 |
کہ تو اپنے رب کی نعمت سے ہرگز دیوانہ نہیں ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
اور بے شک تیرے لیے یقینا ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
اور بلاشبہ یقینا تو ایک بڑے خلق پر ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
پس جلد ہی تو دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
کہ تم میں سے کون فتنے میں ڈالا ہوا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اس کو جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے ان کو جو سیدھی راہ پر ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
پس تو ان جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان۔
|
|
9 |
وہ چاہتے ہیں کاش! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
اور تو کسی بہت قسمیں کھانے والے ذلیل کا کہنا مت مان۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
جو بہت طعنہ دینے والا، چغلی میں بہت دوڑ دھوپ کرنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
خیر کو بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، سخت گناہ گار ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدنام ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
اس لیے کہ وہ مال اور بیٹوں والا رہا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
جلد ہی ہم اسے تھوتھنی پر داغ لگائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
یقینا ہم نے انھیں آزمایا ہے، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہوتے اس کا پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔
|
|
18 |
اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
پس اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک اچانک عذاب پھر گیا، جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
تو صبح کووہ (باغ) کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہو گیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
پھر انھوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو آواز دی۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
کہ صبح صبح اپنے کھیت پر جا پہنچو، اگرتم پھل توڑنے والے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
چنانچہ وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
کہ آج اس (باغ) میں تمھارے پاس کوئی مسکین ہر گز داخل نہ ہونے پائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
اور وہ صبح سویرے پختہ ارادے کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں پھل توڑنے پر) قادر تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
پس جب انھوں نے اسے دیکھا تو انھوں نے کہا بلاشبہ ہم یقینا راستہ بھولے ہوئے ہیں۔
|
|
27 |
بلکہ ہم بے نصیب ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
ان میں سے بہتر نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
انھوں نے کہا ہمارا رب پاک ہے، بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
پھر ان کا ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوا،آپس میں ملامت کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
انھوں نے کہا ہائے ہماری ہلاکت! یقینا ہم ہی حد سے بڑھے ہوئے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔یقینا (اب) ہم اپنے رب ہی کی طرف راغب ہونے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
اسی طرح (ہوتا) ہے عذاب۔ اور یقینا آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش ! وہ جانتے ہوتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
بلاشبہ ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمت والے باغات ہیں۔
|
|
35 |
تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کر دیں گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
کیا ہے تمھیں، تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
یا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے، جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
کہ بے شک تمھارے لیے آخرت میں یقینا وہی ہو گا جو تم پسند کرو گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
39 |
یا تمھارے پاس ہمارے ذمے کوئی حلفیہ عہد ہیں، جو قیامت کے دن تک جاپہنچنے والے ہیں کہ بے شک تمھارے لیے یقینا وہی ہوگا جو تم فیصلہ کرو گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
ان سے پوچھ ان میں سے کون اس کا ضامن ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
یا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو وہ اپنے شریک لے آئیں، اگر وہ سچے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور وہ سجدے کی طرف بلائے جائیں گے تو وہ طاقت نہیں رکھیں گے۔
|
|
43 |
ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہو گی، حالانکہ انھیں سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا، جب کہ وہ صحیح سالم تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
پس چھوڑ مجھے اور اس کو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے، ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ (ہلاکت کی طرف) اس طرح سے لے جائیں گے کہ وہ نہیں جانیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
اور میں انھیں مہلت دوں گا، یقیناً میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
یا تو ان سے کوئی مزدوری طلب کرتا ہے کہ وہ تاوان سے بوجھل ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
47 |
یا ان کے پاس غیب کا علم ہے، تو وہ لکھتے جا تے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو، جب اس نے پکارا، اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔
|
|
49 |
اگر یہ نہ ہوتا کہ اسے اس کے رب کی نعمت نے سنبھال لیا تو یقینا وہ چٹیل زمین پر اس حال میں پھینکا جاتا کہ وہ مذمت کیا ہوا ہوتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کر دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|