🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة النازعات
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
والنازعات غرقا
ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر سختی سے ( جان) کھینچ لینے والے ہیں!
2
والناشطات نشطا
اور جو بند کھولنے والے ہیں! آسانی سے کھولنا۔
ابن کثیر ↑
3
والسابحات سبحا
اور جو تیرنے والے ہیں! تیزی سے تیرنا۔
ابن کثیر ↑
4
فالسابقات سبقا
پھر جو آگے نکلنے والے ہیں! آگے بڑھ کر۔
ابن کثیر ↑
5
فالمدبرات أمرا
پھر جو کسی کام کی تدبیر کرنے والے ہیں!
ابن کثیر ↑
6
يوم ترجف الراجفة
جس دن ہلا ڈالے گا سخت ہلانے والا ( زلزلہ )۔
ابن کثیر ↑
7
تتبعها الرادفة
اس کے بعد ساتھ ہی پیچھے آنے والا ( زلزلہ ) آئے گا۔
ابن کثیر ↑
8
قلوب يومئذ واجفة
کئی دل اس دن دھڑکنے والے ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
9
أبصارها خاشعة
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔
ابن کثیر ↑
10
يقولون أإنا لمردودون في الحافرة
یہ لوگ کہتے ہیں کیا بے شک ہم یقینا پہلی حالت میں لوٹائے جانے والے ہیں؟
ابن کثیر ↑
11
أإذا كنا عظاما نخرة
کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے۔
ابن کثیر ↑
12
قالوا تلك إذا كرة خاسرة
انھوں نے کہا یہ تو اس وقت خسارے والا لوٹنا ہو گا۔
ابن کثیر ↑
13
فإنما هي زجرة واحدة
پس وہ تو صرف ایک ہی ڈانٹ ہو گی۔
ابن کثیر ↑
14
فإذا هم بالساهرة
پس یک لخت وہ زمین کے اوپر موجود ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
15
هل أتاك حديث موسى
کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے؟
16
إذ ناداه ربه بالواد المقدس طوى
جب اس کے رب نے اسے مقدس وادی طویٰ میں پکارا۔
ابن کثیر ↑
17
اذهب إلى فرعون إنه طغى
فرعون کے پاس جا ، یقینا وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔
ابن کثیر ↑
18
فقل هل لك إلى أن تزكى
پس کہہ کیا تجھے اس بات کی کوئی رغبت ہے کہ تو پاک ہو جائے؟
ابن کثیر ↑
19
وأهديك إلى ربك فتخشى
اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہ نمائی کروں، پس تو ڈر جائے۔
ابن کثیر ↑
20
فأراه الآية الكبرى
چنانچہ اس نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔
ابن کثیر ↑
21
فكذب وعصى
تو اس نے جھٹلا دیا اور نافرمانی کی ۔
ابن کثیر ↑
22
ثم أدبر يسعى
پھر واپس پلٹا ، دوڑ بھاگ کرتا تھا ۔
ابن کثیر ↑
23
فحشر فنادى
پھر اس نے اکٹھا کیا، پس پکارا۔
ابن کثیر ↑
24
فقال أنا ربكم الأعلى
پس اس نے کہا میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں۔
ابن کثیر ↑
25
فأخذه الله نكال الآخرة والأولى
تو اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔
ابن کثیر ↑
26
إن في ذلك لعبرة لمن يخشى
بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔
ابن کثیر ↑
27
أأنتم أشد خلقا أم السماء بناها
کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔
28
رفع سمكها فسواها
اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔
ابن کثیر ↑
29
وأغطش ليلها وأخرج ضحاها
اور اس کی رات کو تاریک کر دیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کر دیا۔
ابن کثیر ↑
30
والأرض بعد ذلك دحاها
اور زمین، اس کے بعد اسے بچھا دیا۔
ابن کثیر ↑
31
أخرج منها ماءها ومرعاها
اس سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا۔
ابن کثیر ↑
32
والجبال أرساها
اور پہاڑ، اس نے انھیں گاڑ دیا۔
ابن کثیر ↑
33
متاعا لكم ولأنعامكم
تمھاری اور تمھارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لیے۔
ابن کثیر ↑
34
فإذا جاءت الطامة الكبرى
پھر جب وہ ہر چیز پر چھاجانے والی سب سے بڑی مصیبت آجائے گی ۔
35
يوم يتذكر الإنسان ما سعى
جس دن انسان یاد کرے گا جو اس نے کوشش کی۔
ابن کثیر ↑
36
وبرزت الجحيم لمن يرى
اور جہنم (ہر) اس شخص کے لیے ظاہر کردی جائے گی جو دیکھتا ہے۔
ابن کثیر ↑
37
فأما من طغى
پس لیکن جو حد سے بڑھ گیا ۔
ابن کثیر ↑
38
وآثر الحياة الدنيا
اور اس نے دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔
39
فإن الجحيم هي المأوى
توبے شک جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔
ابن کثیر ↑
40
وأما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوى
اور رہا وہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے نفس کو خواہش سے روک لیا۔
ابن کثیر ↑
41
فإن الجنة هي المأوى
تو بے شک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔
ابن کثیر ↑
42
يسألونك عن الساعة أيان مرساها
وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے؟
ابن کثیر ↑
43
فيم أنت من ذكراها
اس کے ذکر سے تو کس خیال میں ہے؟
ابن کثیر ↑
44
إلى ربك منتهاها
تیرے رب ہی کی طرف اس (کے علم) کی انتہا ہے ۔
ابن کثیر ↑
45
إنما أنت منذر من يخشاها
توُ تو صرف اسے ڈرانے والا ہے جو اس سے ڈرتا ہے۔
ابن کثیر ↑
46
كأنهم يوم يرونها لم يلبثوا إلا عشية أو ضحاها
گویا وہ جس دن اسے دیکھیں گے وہ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے، مگر دن کا ایک پچھلا حصہ، یا اس کا پہلا حصہ ۔
ابن کثیر ↑