قرآن مجيد
سورة النازعات
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر سختی سے ( جان) کھینچ لینے والے ہیں!
|
|
2 |
اور جو بند کھولنے والے ہیں! آسانی سے کھولنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
اور جو تیرنے والے ہیں! تیزی سے تیرنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
پھر جو آگے نکلنے والے ہیں! آگے بڑھ کر۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
پھر جو کسی کام کی تدبیر کرنے والے ہیں!
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
جس دن ہلا ڈالے گا سخت ہلانے والا ( زلزلہ )۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
اس کے بعد ساتھ ہی پیچھے آنے والا ( زلزلہ ) آئے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
کئی دل اس دن دھڑکنے والے ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
یہ لوگ کہتے ہیں کیا بے شک ہم یقینا پہلی حالت میں لوٹائے جانے والے ہیں؟
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
انھوں نے کہا یہ تو اس وقت خسارے والا لوٹنا ہو گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
پس وہ تو صرف ایک ہی ڈانٹ ہو گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
پس یک لخت وہ زمین کے اوپر موجود ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے؟
|
|
16 |
جب اس کے رب نے اسے مقدس وادی طویٰ میں پکارا۔
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
فرعون کے پاس جا ، یقینا وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
پس کہہ کیا تجھے اس بات کی کوئی رغبت ہے کہ تو پاک ہو جائے؟
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہ نمائی کروں، پس تو ڈر جائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
چنانچہ اس نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
تو اس نے جھٹلا دیا اور نافرمانی کی ۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
پھر واپس پلٹا ، دوڑ بھاگ کرتا تھا ۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
پھر اس نے اکٹھا کیا، پس پکارا۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
پس اس نے کہا میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
تو اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔
|
|
28 |
اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
اور اس کی رات کو تاریک کر دیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کر دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
اور زمین، اس کے بعد اسے بچھا دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
اس سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
اور پہاڑ، اس نے انھیں گاڑ دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
تمھاری اور تمھارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لیے۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
پھر جب وہ ہر چیز پر چھاجانے والی سب سے بڑی مصیبت آجائے گی ۔
|
|
35 |
جس دن انسان یاد کرے گا جو اس نے کوشش کی۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
اور جہنم (ہر) اس شخص کے لیے ظاہر کردی جائے گی جو دیکھتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
پس لیکن جو حد سے بڑھ گیا ۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
اور اس نے دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔
|
|
39 |
توبے شک جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
اور رہا وہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے نفس کو خواہش سے روک لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
تو بے شک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
اس کے ذکر سے تو کس خیال میں ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
تیرے رب ہی کی طرف اس (کے علم) کی انتہا ہے ۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
توُ تو صرف اسے ڈرانے والا ہے جو اس سے ڈرتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
گویا وہ جس دن اسے دیکھیں گے وہ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے، مگر دن کا ایک پچھلا حصہ، یا اس کا پہلا حصہ ۔
|
ابن کثیر ↑
|