اور جب ان سے کہا گیا اس بستی میں رہو اور اس میں سے جہاں چاہو کھائو اور کہو بخش دے اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو تو ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں معاف کر دیں گے، عنقریب ہم نیکی کرنے والوں کو زیادہ دیں گے۔[161]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
قِیۡلَ
لَہُمُ
اسۡکُنُوۡا
ہٰذِہِ
الۡقَرۡیَۃَ
وَکُلُوۡا
مِنۡہَا
حَیۡثُ
شِئۡتُمۡ
وَقُوۡلُوۡا
حِطَّۃٌ
وَّادۡخُلُوا
الۡبَابَ
سُجَّدًا
نَّغۡفِرۡ
لَکُمۡ
خَطِیۡٓئٰتِکُمۡ
سَنَزِیۡدُ
الۡمُحۡسِنِیۡنَ
اور جب
کہا گیا
ان سے
تم ٹھہرو /رہو
اس
بستی میں
اور کھاؤ
اس میں سے
جہاں سے
چاہو تم
اور کہو
حطتہ / بخش دے
اور داخل ہوجاؤ
دروازے سے
سجدہ کرتے ہوئے
ہم بخش دیں گے
تمہارے لیے
خطائیں تمہاری
عنقریب ہم زیادہ دیں گے
احسان کرنے والوں کو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
قِیۡلَ
لَہُمُ
اسۡکُنُوۡا
ہٰذِہِ
الۡقَرۡیَۃَ
وَکُلُوۡا
مِنۡہَا
حَیۡثُ
شِئۡتُمۡ
وَقُوۡلُوۡا
حِطَّۃٌ
وَّادۡخُلُوا
الۡبَابَ
سُجَّدًا
نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ
خَطِیۡٓئٰتِکُمۡ
سَنَزِیۡدُ
الۡمُحۡسِنِیۡنَ
اور جب
کہا گیا
ان کے لیے
تم رہو
اس
بستی میں
اور تم کھاؤ
اس میں سے
جہاں سے
چاہو تم
اور تم کہنا
بخش دے
اور تم داخل ہو
دروازے میں
سجدہ کرتے ہوئے
ہم بخش دیں گے تمہارے لیے
خطائیں تمہاری
عنقریب ہم زیا دہ دیں گے
نیکی کرنے والوں کو
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَ
اِذْ
قِيْلَ
لَهُمُ
اسْكُنُوْا
هٰذِهِ
الْقَرْيَةَ
وَكُلُوْا
مِنْهَا
حَيْثُ
شِئْتُمْ
وَقُوْلُوْا
حِطَّةٌ
وَّادْخُلُوا
الْبَابَ
سُجَّدًا
نَّغْفِرْ
لَكُمْ
خَطِيْٓئٰتِكُمْ
سَنَزِيْدُ
الْمُحْسِنِيْنَ
اور
جب
کہا گیا
ان سے
تم رہو
اس
شہر
اور کھاؤ
اس سے
جیسے
تم چاہو
اور کہو
حطۃ (بخشدے)
اور داخل ہو
دروازہ
سجدہ کرتے ہوئے
ہم بخشدیں گے
تمہیں
تمہاری خطائیں
عنقریب ہم زیادہ دیں گے
نیکی کرنے والے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]