اور جب تیرے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا، کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی۔ (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو بے شک ہم اس سے غافل تھے۔[172]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
اَخَذَ
رَبُّکَ
مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ
مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ
ذُرِّیَّتَہُمۡ
وَاَشۡہَدَہُمۡ
عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ
اَلَسۡتُ
بِرَبِّکُمۡ
قَالُوۡا
بَلٰی
شَہِدۡنَا
اَنۡ
تَقُوۡلُوۡا
یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ
اِنَّا
کُنَّا
عَنۡ ہٰذَا
غٰفِلِیۡنَ
اور جب
لیا
آپ کے رب نے
بنی آدم سے
ان کی پشتوں سے
ان کی اولادکو
اور گواہ بنایا ان کو
ان کے نفسوں پر
فرمایا ) کیا نہیں ہوں میں
رب تمہارا
انہوں نے کہا
کیوں نہیں
گواہی دی ہم نے
تا کہ (نہ)
تم کہو
قیامت کے دن
بیشک ہم
تھے ہم
اس سے
غافل
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
اَخَذَ
رَبُّکَ
مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ
مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ
ذُرِّیَّتَہُمۡ
وَاَشۡہَدَہُمۡ
عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ
اَلَسۡتُ
بِرَبِّکُمۡ
قَالُوۡا
بَلٰی
شَہِدۡنَا
اَنۡ
تَقُوۡلُوۡا
یَوۡمَ
الۡقِیٰمَۃِ
اِنَّا
کُنَّا
عَنۡ ہٰذَا
غٰفِلِیۡنَ
اور جب
نکالا
آپ کے رب نے
اولادِ آدم سے
ان کی پشتوں سے
اُن کی اولاد کو
اور اس نے گواہ بنایا ان کو
ان کی جانوں پر
کیا نہیں ہوں میں
رب تمہارا
اُنہوں نے کہا
کیوں نہیں
ہم نے گواہی دی
یہ کہ
تم کہو
دن
قیامت کے
یقیناً ہم
تھے ہم
اس سے
غافل
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذْ
اَخَذَ
رَبُّكَ
مِنْ
بَنِيْٓ اٰدَمَ
مِنْ
ظُهُوْرِهِمْ
ذُرِّيَّتَهُمْ
وَاَشْهَدَهُمْ
عَلٰٓي
اَنْفُسِهِمْ
اَلَسْتُ
بِرَبِّكُمْ
قَالُوْا
بَلٰي
شَهِدْنَا
اَنْ
تَقُوْلُوْا
يَوْمَ الْقِيٰمَةِ
اِنَّا
كُنَّا
عَنْ
هٰذَا
غٰفِلِيْنَ
اور جب
لیا (نکالی)
تمہارا رب
سے (کی)
بنی آدم
سے
ان کی پشت
ان کی اولاد
اور گواہ بنایا ان کو
پر
ان کی جانیں
کیا نہیں ہوں میں
تمہارا رب
وہ بولے
ہاں، کیوں نہیں
ہم گواہ ہیں
کہ (کبھی)
تم کہو
قیامت کے دن
بیشک ہم
تھے
سے
اس
غافل (جمع)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]