کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔[188]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قُلۡ
لَّاۤاَمۡلِکُ
لِنَفۡسِیۡ
نَفۡعًا
وَّلَا
ضَرًّا
اِلَّا
مَا
شَآءَ
اللّٰہُ
وَلَوۡ
کُنۡتُ
اَعۡلَمُ
الۡغَیۡبَ
لَاسۡتَکۡثَرۡتُ
مِنَ الۡخَیۡرِۚ
وَمَا
مَسَّنِیَ
السُّوۡٓءُ
اِنۡ
اَنَا
اِلَّا
نَذِیۡرٌ
وَّ بَشِیۡرٌ
لِّقَوۡمٍ
یُّؤۡمِنُوۡنَ
کہہ دیجیے
نہیں ہوں میں مالک
اپنے نفس کے لیے
کسی نفع کا
اور نہ
کسی نقصان کا
مگر
جو
چاہے
اللہ
اور اگر
ہوتا میں
میں جانتا
غیب کو
البتہ کثرت سے لے لیتا میں
بھلائی میں سے
اور نہ
پہنچتی مجھے
کوئی تکلیف
نہیں ہوں
میں
مگر
ڈرانے والا
اور خوشخبری دینے والا
ان لوگوں کے لیے
جو ایمان لاتے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قُلۡ
لَّاۤاَمۡلِکُ
لِنَفۡسِیۡ
نَفۡعًا
وَّلَا
ضَرًّا
اِلَّا
مَا شَآءَ
اللّٰہُ
وَلَوۡ
کُنۡتُ
اَعۡلَمُ
الۡغَیۡبَ
لَاسۡتَکۡثَرۡتُ
مِنَ الۡخَیۡرِۚ
وَمَا
مَسَّنِیَ
السُّوۡٓءُ
اِنۡ
اَنَا
اِلَّا
نَذِیۡرٌ
وَّ بَشِیۡرٌ
لِّقَوۡمٍ
یُّؤۡمِنُوۡنَ
آپ کہہ دیں
نہیں میں ما لک
اپنی جان کے لیے
کسی نفع کا
اور نہ
کسی نقصا ن کا
مگر
جو چاہے
اللہ تعالیٰ
اور اگر
ہوتا میں
میں جانتا
غیب کو
میں ضرور بہت زیادہ حاصل کرتا
بھلائیوں میں سے
اور نہ
چھوتی مجھے
کوئی تکلیف
نہیں ہوں
میں
مگر
ایک ڈرانے والا
اور خوش خبری دینے والا
لوگوں کے لیے
وہ ایمان لاتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
قُلْ
لَّآ اَمْلِكُ
لِنَفْسِيْ
نَفْعًا
وَّ
لَا
ضَرًّا
اِلَّا
مَا
شَآءَ اللّٰهُ
وَلَوْ
كُنْتُ
اَعْلَمُ
الْغَيْبَ
لَاسْتَكْثَرْتُ
مِنَ
الْخَيْر
وَمَا مَسَّنِيَ
السُّوْٓءُ
اِنْ
اَنَا
اِلَّا
نَذِيْرٌ
وَّبَشِيْرٌ
لِّقَوْمٍ
يُّؤْمِنُوْنَ
کہ دیں
میں مالک نہیں
اپنی ذات کے لیے
نفع
اور
نہ
نقصان
مگر
جو
چاہے اللہ
اور اگر
میں ہوتا
جانتا
غیب
میں البتہ جمع کرلیتا
سے
بہت بھلائی
اور نہ پہنچتی مجھے
کوئی برائی
بس۔ فقط
میں
مگر (صرف)
ڈرانے والا
اور خوشخبری سنانے والا
لوگوں کے لیے
ایمان رکھتے ہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]