جب وہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا، اپنی طرف سے خوف دور کرنے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی اتارتا تھا، تاکہ اس کے ساتھ تمھیں پاک کر دے اور تم سے شیطان کی گندگی دور کرے اور تاکہ تمھارے دلوں پر مضبوط گرہ باندھے اور اس کے ساتھ قدموں کو جما دے۔[11]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اِذۡ
یُغَشِّیۡکُمُ
النُّعَاسَ
اَمَنَۃً
مِّنۡہُ
وَیُنَزِّلُ
عَلَیۡکُمۡ
مِّنَ السَّمَآءِ
مَآءً
لِّیُطَہِّرَکُمۡ
بِہٖ
وَیُذۡہِبَ
عَنۡکُمۡ
رِجۡزَ
الشَّیۡطٰنِ
وَلِیَرۡبِطَ
عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ
وَیُثَبِّتَ
بِہِ
الۡاَقۡدَامَ
جب
ڈھانپ رہی تھی تمہیں
اونگھ
امن والی
اس کی طرف سے
اور وہ اتار رہا تھا
تم پر
آسمان سے
پانی
تاکہ وہ پاک کردے تمہیں
ساتھ اس کے
اور وہ لے جائے
تم سے
نجاست
شیطان کی
اور تاکہ وہ مظبوط کردے
تمہارے دلوں پر
اور وہ جما دے
ساتھ اس کے
قدموں کو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اِذۡ
یُغَشِّیۡکُمُ
النُّعَاسَ
اَمَنَۃً
مِّنۡہُ
وَیُنَزِّلُ
عَلَیۡکُمۡ
مِّنَ السَّمَآءِ
مَآءً
لِّیُطَہِّرَکُمۡ
بِہٖ
وَیُذۡہِبَ
عَنۡکُمۡ
رِجۡزَ
الشَّیۡطٰنِ
وَلِیَرۡبِطَ
عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ
وَیُثَبِّتَ
بِہِ
الۡاَقۡدَامَ
جب
وہ طاری کر رہا تھاتم پر
اونگھ
امن دینے کے لیے
اپنی طرف سے
اور وہ نازل کر رہا تھا
تم پر
آسمان سے
پانی
تاکہ وہ پاک کرے تمہیں
اُس کے ذریعے
اور وہ دور کر دے
تم سے
گندگی
شیطان کی
اور تاکہ وہ مضبوط کر دے
تمہارے دلوں کو
اور وہ جما دے
ساتھ اس کے
قدم
حافظ نذر احمد حفظه الله
اِذْ
يُغَشِّيْكُمُ
النُّعَاسَ
اَمَنَةً
مِّنْهُ
وَيُنَزِّلُ
عَلَيْكُمْ
مِّنَ
السَّمَآءِ
مَآءً
لِّيُطَهِّرَكُمْ
بِهٖ
وَيُذْهِبَ
عَنْكُمْ
رِجْزَ
الشَّيْطٰنِ
وَلِيَرْبِطَ
عَلٰي
قُلُوْبِكُمْ
وَيُثَبِّتَ
بِهِ
الْاَقْدَامَ
جب
تمہیں ڈھانپ لیا (طاری کردی)
اونگھ
تسکین
اس سے
اور اتارا اس نے
تم پر
سے
آسمان
پانی
تاکہ پاک کردے تمہیں
اس سے
اور دور کردے
تم سے
پلیدی (ناپاکی)
شیطان
اور تاکہ باندھ دے (مضبوط کردے)
پر
تمارے دل
اور جمادے
اس سے
قدم
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔