کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے، تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔[67]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
مَا
کَانَ
لِنَبِیٍّ
اَنۡ
یَّکُوۡنَ
لَہٗۤ
اَسۡرٰی
حَتّٰی
یُثۡخِنَ
فِی الۡاَرۡضِ
تُرِیۡدُوۡنَ
عَرَضَ
الدُّنۡیَا
وَاللّٰہُ
یُرِیۡدُ
الۡاٰخِرَۃَ
وَاللّٰہُ
عَزِیۡزٌ
حَکِیۡمٌ
نہیں
ہے
کسی نبی کے لیے
کہ
ہوں
اس کے لیے
قیدی
یہاں تک کہ
وہ اچھی طرح خون بہا دے
میں زمین
تم چاہتے ہو
سامان
دنیا کا
اور اللہ
چاہتا ہے
آخرت
اور اللہ
خوب زبردست ہے
خوب حکمت والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
مَا
کَانَ
لِنَبِیٍّ
اَنۡ
یَّکُوۡنَ
لَہٗۤ
اَسۡرٰی
حَتّٰی
یُثۡخِنَ
فِی الۡاَرۡضِ
تُرِیۡدُوۡنَ
عَرَضَ
الدُّنۡیَا
وَاللّٰہُ
یُرِیۡدُ
الۡاٰخِرَۃَ
وَاللّٰہُ
عَزِیۡزٌ
حَکِیۡمٌ
نہیں
ہے
کسی نبی کے لیے
یہ کہ
ہوں
اُس کے لیے
قیدی
یہاں تک کہ
وہ خوب خون بہا لے
زمین میں
تم چاہتے ہو
سازو سامان
دُنیا کا
اور اللہ تعالیٰ
چاہتا ہے
آخرت کو
اور اللہ تعالیٰ
سب پر غالب
کمال حکمت والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
مَا كَانَ
لِنَبِيٍّ
اَنْ
يَّكُوْنَ
لَهٗٓ
اَسْرٰي
حَتّٰي
يُثْخِنَ
فِي
الْاَرْضِ
تُرِيْدُوْنَ
عَرَضَ
الدُّنْيَا
وَاللّٰهُ
يُرِيْدُ
الْاٰخِرَةَ
وَاللّٰهُ
عَزِيْزٌ
حَكِيْمٌ
نہیں ہے
کسی نبی کے لیے
کہ
ہوں
اس کے
قیدی
جب تک
خونریزی کرلے
میں
زمین
تم چاہتے ہو
مال
دنیا
اور اللہ
چاہتا ہے
آخرت
اور اللہ
غالب
حکمت والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]