مشرکوں کا کبھی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ آگ ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔[17]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
مَا
کَانَ
لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ
اَنۡ
یَّعۡمُرُوۡا
مَسٰجِدَ
اللّٰہِ
شٰہِدِیۡنَ
عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ
بِالۡکُفۡرِ
اُولٰٓئِکَ
حَبِطَتۡ
اَعۡمَالُہُمۡ
وَ فِی النَّارِ
ہُمۡ
خٰلِدُوۡنَ
نہیں
ہے
مشرکین کے لیے
کہ
وہ آباد کریں
مسجدیں
اللہ کی
شہادت دینے والے
اپنے نفسوں پر
کفر کی
یہی لوگ ہیں
ضائع ہوگئے
اعمال ان کے
اور آگ میں
وہ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
مَا
کَانَ
لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ
اَنۡ
یَّعۡمُرُوۡا
مَسٰجِدَ اللّٰہِ
شٰہِدِیۡنَ
عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ
بِالۡکُفۡرِ
اُولٰٓئِکَ
حَبِطَتۡ
اَعۡمَالُہُمۡ
وَ فِی النَّارِ
ہُمۡ
خٰلِدُوۡنَ
کبھی نہیں
ہے
مشرکوں کے لیے
یہ کہ
وہ آباد کریں
اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو
شہادت دینے والے ہیں
اپنے آپ پر
کفر کی
یہی لوگ ہیں
ضائع ہوگئے
اعمال اُن کے
اور آگ میں
وہ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
مَا كَانَ
لِلْمُشْرِكِيْنَ
اَنْ
يَّعْمُرُوْا
مَسٰجِدَ اللّٰهِ
شٰهِدِيْنَ
عَلٰٓي
اَنْفُسِهِمْ
بِالْكُفْرِ
اُولٰٓئِكَ
حَبِطَتْ
اَعْمَالُهُمْ
وَ
فِي النَّارِ
هُمْ
خٰلِدُوْنَ
نہیں ہے
مشرکوں کے لیے
کہ
وہ آباد کریں
اللہ کی مسجدیں
تسلیم کرتے ہوں
پر
اپنی جانیں (اپنے اوپر)
کفر کو
وہی لوگ
اکارت گئے
ان کے اعمال
اور
جہنم میں
وہ
ہمیشہ رہیں گے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]