بلاشبہ یقینا انھوں نے اس سے پہلے فتنہ ڈالنا چاہا اور تیرے لیے کئی معاملات الٹ پلٹ کیے، یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہوگیا، حالانکہ وہ ناپسند کرنے والے تھے۔[48]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
لَقَدِ
ابۡتَغَوُا
الۡفِتۡنَۃَ
مِنۡ قَبۡلُ
وَقَلَّبُوۡا
لَکَ
الۡاُمُوۡرَ
حَتّٰی
جَآءَ
الۡحَقُّ
وَظَہَرَ
اَمۡرُ
اللّٰہِ
وَہُمۡ
کٰرِہُوۡنَ
البتہ تحقیق
انہوں نے (ڈالنا )چاہا
فتنہ
اس سے پہلے
اور الٹ پلٹ کیے
آپ کے لیے
معاملات
یہاں تک کہ
آ گیا
حق
اور ظاہر ہوگیا
حکم
اللہ کا
جب کہ وہ
ناپسند کرنے والے تھے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
لَقَدِ
ابۡتَغَوُا
الۡفِتۡنَۃَ
مِنۡ قَبۡلُ
وَقَلَّبُوۡا
لَکَ
الۡاُمُوۡرَ
حَتّٰی
جَآءَ
الۡحَقُّ
وَظَہَرَ
اَمۡرُ
اللّٰہِ
وَہُمۡ
کٰرِہُوۡنَ
بلاشبہ یقیناً
انہوں نے چاہا
فتنے میں ڈالنا
اس سے پہلے
اور اُ لٹ پلٹ کیے
تمہارے لیے
کئی معاملات
یہاں تک کہ
آگیا
حق
اور غالب ہوگیا
حکم
اللہ تعالیٰ کا
حالانکہ وہ
نا پسند کرنے والے تھے
حافظ نذر احمد حفظه الله
لَقَدِ ابْتَغَوُا
الْفِتْنَةَ
مِنْ قَبْلُ
وَقَلَّبُوْا
لَكَ
الْاُمُوْرَ
حَتّٰي
جَآءَ
الْحَقُّ
وَظَهَرَ
اَمْرُ اللّٰهِ
وَهُمْ
كٰرِهُوْنَ
البتہ چاہا تھا انہوں نے
بگاڑ
اس سے قبل
انہوں نے الٹ پلٹ کیں
تمہارے لیے
تدبیریں
یہانتک کہ
آگیا
حق
اور غالب آگیا
امر الہی
اور وہ
پسند نہ کرنے والے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔