اگر وہ تم میں نکلتے تو خرابی کے سوا تم میں کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور ضرور تمھارے درمیان (گھوڑے) دوڑاتے، اس حال میں کہ تم میں فتنہ تلاش کرتے، اور تم میں کچھ ان کی باتیں کان لگا کر سننے والے ہیں اور اللہ ان ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔[47]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
لَوۡ
خَرَجُوۡا
فِیۡکُمۡ
مَّا
زَادُوۡکُمۡ
اِلَّا
خَبَالًا
وَّلَا۠اَوۡضَعُوۡا
خِلٰلَکُمۡ
یَبۡغُوۡنَکُمُ
الۡفِتۡنَۃَ
وَفِیۡکُمۡ
سَمّٰعُوۡنَ
لَہُمۡ
وَاللّٰہُ
عَلِیۡمٌۢ
بِالظّٰلِمِیۡنَ
اگر
وہ نکلتے
تم میں
نہ
وہ زیادہ کرتے تمہیں
مگر
خرابی میں
اور البتہ وہ (گھوڑے )دوڑاتے
درمیان تمہارے
وہ تلاش میں رہتے تم میں
فتنے کی
اور تم میں
سننے والے (جاسوس )ہیں
ان کے لیے
اور اللہ تعالی
خوب جاننے والا ہے
ظالموں کو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
لَوۡ
خَرَجُوۡا
فِیۡکُمۡ
مَّا
زَادُوۡکُمۡ
اِلَّا
خَبَالًا
وَّلَا۠اَوۡضَعُوۡا
خِلٰلَکُمۡ
یَبۡغُوۡنَکُمُ
الۡفِتۡنَۃَ
وَفِیۡکُمۡ
سَمّٰعُوۡنَ
لَہُمۡ
وَاللّٰہُ
عَلِیۡمٌۢ
بِالظّٰلِمِیۡنَ
اگر
وہ نکلتے
تم میں
نہ
وہ اضافہ کرتے تم میں
سوائے
خرابی کا
اور ضرور دوڑاتے
درمیان تمہارے
تلاش کرتے ہوئے تم میں
فتنے کو
اور تم میں
کان لگا کر سننے والے ہیں
اُن کے لیے
اور اللہ تعالیٰ
خوب جاننے والا
ظلم کرنے والوں کو
حافظ نذر احمد حفظه الله
لَوْ
خَرَجُوْا
فِيْكُمْ
مَّا
زَادُوْكُمْ
اِلَّا
خَبَالًا
وَّ
لَا۟اَوْضَعُوْا
خِلٰلَكُمْ
يَبْغُوْنَكُمُ
الْفِتْنَةَ
وَفِيْكُمْ
سَمّٰعُوْنَ
لَهُمْ
وَاللّٰهُ
عَلِيْمٌ
بِالظّٰلِمِيْنَ
اگر
وہ نکلتے
تم میں
نہ
تمہیں بڑھاتے
مگر (سوائے)
خرابی
اور
دوڑے پھرتے
تمہارے درمیان
تمہارے لیے چاہتے ہیں
بگاڑ
اور تم میں
سننے والے (جاسوس)
ان کے
اور اللہ
خوب جانتا ہے
ظالموں کو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔