اور رہ گئے وہ جو خوش قسمت بنائے گئے تو وہ جنت میں ہوں گے، ہمیشہ اس میں رہنے والے، جب تک سارے آسمان اور زمین قائم ہیں مگر جو تیرا رب چاہے۔ ایسا عطیہ جو قطع کیا جانے والا نہیں۔[108]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاَمَّا
الَّذِیۡنَ
سُعِدُوۡا
فَفِی الۡجَنَّۃِ
خٰلِدِیۡنَ
فِیۡہَا
مَا دَامَتِ
السَّمٰوٰتُ
وَالۡاَرۡضُ
رَبُّکَ
عَطَآءً
غَیۡرَ
مَجۡذُوۡذٍ
اور رہے
وہ لوگ جو
نیک بخت ہوئے
تو جنت میں ہوں گے
ہمیشہ رہنے والے ہیں
اس میں
جب تک قائم ہیں
آسمان
اور زمین
رب آپ کا
بخشش ہے
نہ
ختم ہونے والی
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاَمَّا
الَّذِیۡنَ
سُعِدُوۡا
فَفِی الۡجَنَّۃِ
خٰلِدِیۡنَ
فِیۡہَا
مَا دَامَتِ
السَّمٰوٰتُ
وَالۡاَرۡضُ
اِلَّا
مَا شَآءَ
رَبُّکَ
عَطَآءً
غَیۡرَ
مَجۡذُوۡذٍ
اور لیکن
جن لوگوں کو
نیک بخت قرار دیا جائے گا
تو وہ جنت میں
ہمیشہ رہنے والے ہیں
اس میں
جب تک قائم ہیں
آسمان
اور زمین
مگر
جو چاہے
رب آپ کا
ایسا عطیہ ہے
نہیں
قطع کیا جانے والا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاَمَّا
الَّذِيْنَ
سُعِدُوْا
فَفِي الْجَنَّةِ
خٰلِدِيْنَ
فِيْهَا
مَا دَامَتِ
السَّمٰوٰتُ
وَالْاَرْضُ
اِلَّا
مَا شَآءَ
رَبُّكَ
عَطَآءً
غَيْرَ مَجْذُوْذٍ
اور جو
وہ لوگ جو
خوش بخت ہوئے
سو جنت میں
ہمیشہ رہیں گے
اس میں
جب تک ہیں
آسمان (جمع)
اور زمین
مگر
جتنا چاہے
تیرا رب
عطا۔ بخشش
ختم نہ ہونے والی
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]