اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تیرے لیے تدبیر کریں گے، کوئی بری تدبیر۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔[5]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
یٰبُنَیَّ
لَاتَقۡصُصۡ
رُءۡیَاکَ
عَلٰۤی اِخۡوَتِکَ
فَیَکِیۡدُوۡا
لَکَ
کَیۡدًا
اِنَّ
الشَّیۡطٰنَ
لِلۡاِنۡسَانِ
عَدُوٌّ
مُّبِیۡنٌ
اس نے کہا
اے میرے بیٹے
نہ تم بیان کرنا
خواب اپنا
اپنے بھائیوں پر
بس وہ چال چلیں گے
تیرے لیے
ایک چال
بےشک
شیطان
انسان کے لیے
دشمن ہے
کھلم کھلا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
یٰبُنَیَّ
لَاتَقۡصُصۡ
رُءۡیَاکَ
عَلٰۤی اِخۡوَتِکَ
فَیَکِیۡدُوۡا
لَکَ
کَیۡدًا
اِنَّ
الشَّیۡطٰنَ
لِلۡاِنۡسَانِ
عَدُوٌّ
مُّبِیۡنٌ
اُس نے کہا
اے میرے چھوٹے بیٹے
نہ بیان کرنا
اپنا خواب
اپنے بھائیوں سے
پھر وہ سازشیں کریں گے
آپ کے خلاف
سازشیں
بے شک
شیطان
انسان کا
دشمن ہے
کھلا
حافظ نذر احمد حفظه الله
قَالَ
يٰبُنَيَّ
لَا تَقْصُصْ
رُءْيَاكَ
عَلٰٓي
اِخْوَتِكَ
فَيَكِيْدُوْا
لَكَ
كَيْدًا
اِنَّ
الشَّيْطٰنَ
لِلْاِنْسَانِ
عَدُوٌّ
مُّبِيْنٌ
اس نے کہا
اے میرے بیٹے
نہ بیان کرنا
اپنا خواب
پر (سے)
اپنے بھائی
وہ چال چلیں گے
تیرے لیے
کوئی چال
بیشک
شیطان
انسان کے لیے (کا)
دشمن
کھلا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]