اس نے کہا تمھارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلایا؟ انھوں نے کہا اللہ کی پناہ! ہم نے اس پر کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی بیوی نے کہا اب حق خوب ظاہر ہو گیا، میں نے ہی اسے اس کے نفس سے پھسلایا تھا اور بلاشبہ وہ یقینا سچوں سے ہے۔[51]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
مَا
خَطۡبُکُنَّ
اِذۡ
رَاوَدۡتُّنَّ
یُوۡسُفَ
عَنۡ نَّفۡسِہٖ
قُلۡنَ
حَاشَ لِلّٰہِ
مَا
عَلِمۡنَا
عَلَیۡہِ
مِنۡ سُوۡٓءٍ
قَالَتِ
امۡرَاَتُ
الۡعَزِیۡزِ
الۡئٰنَ
حَصۡحَصَ
الۡحَقُّ
اَنَا
رَاوَدۡتُّہٗ
عَنۡ نَّفۡسِہٖ
وَاِنَّہٗ
لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ
کہا (بادشاہ نے )
کیا
معاملہ ہے تمہارا
جب
تم نے پھسلانا چاہا تھا
یوسف کو
اس کے نفس سے
کہنے لگیں
حاش للہ
نہیں
جانا ہم نے
اس پر
کسی برائی کو
کہنے لگی
عورت
عزیز کی
اب
ضاہر ہو گیا
حق
میں نے
پھسلایاتھا میں نے اسے
اس کے نفس سے
اور بےشک وہ
البتہ سچوں میں سے ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
مَا
خَطۡبُکُنَّ
اِذۡ
رَاوَدۡتُّنَّ
یُوۡسُفَ
عَنۡ نَّفۡسِہٖ
قُلۡنَ
حَاشَ لِلّٰہِ
مَا
عَلِمۡنَا
عَلَیۡہِ
مِنۡ سُوۡٓءٍ
قَالَتِ
امۡرَاَتُ
الۡعَزِیۡزِ
الۡئٰنَ
حَصۡحَصَ
الۡحَقُّ
اَنَا
رَاوَدۡتُّہٗ
عَنۡ نَّفۡسِہٖ
وَاِنَّہٗ
لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ
اُس نے کہا
کیا
معاملہ تھاتمہارا
جب
بہکانے کی کوشش کی تھی تم نے
یوسف کو
اس کے نفس سے
انہوں نے کہا
اللہ تعالیٰ کی پناہ
نہیں
ہم نے معلوم کی
اس میں
کوئی بُرائی
کہا
بیوی نے
عزیز کی
اب
کھل گیا ہے
حق
میں نے ہی
اسے بہکانے کی کوشش کی تھی
اس کی جان سے
اوربلاشبہ وہ
یقیناً سچوں میں سے ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
قَالَ
مَا خَطْبُكُنَّ
اِذْ
رَاوَدْتُّنَّ
يُوْسُفَ
عَنْ
نَّفْسِهٖ
قُلْنَ
حَاشَ
لِلّٰهِ
مَا
عَلِمْنَا
عَلَيْهِ
مِنْ سُوْٓءٍ
قَالَتِ
امْرَاَتُ
الْعَزِيْزِ
الْئٰنَ
حَصْحَصَ
الْحَقُّ
اَنَا
رَاوَدْتُّهٗ
عَنْ
نَّفْسِهٖ
وَاِنَّهٗ
لَمِنَ
الصّٰدِقِيْنَ
اس نے کہا
کیا حال تھا تمہارا
جب
تم نے پھسلایا
یوسف
سے
اس کا نفس
وہ بولیں
پناہ
اللہ کی
نہیں
ہم نے معلوم کی
اس پر (میں)
کوئی برائی
بولی
عورت
عزیز
اب
ظاہر ہوگئی
حقیقت
میں
اسے پھسلایا میں نے
سے
اس کا نفس
اور وہ بیشک
البتہ۔ سے
سچے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]