اور واقعی اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس کے ذریعے زمین قطع کی جاتی، یا اس کے ذریعے مُردوں سے کلام کیا جاتا۔ بلکہ کام سارے کا سارا اللہ کے اختیار میں ہے، تو کیا جو لوگ ایمان لائے ہیں مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہے تو یقینا سب کے سب لوگوں کو ہدایت دے دے، اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہمیشہ اس حال میں رہیں گے کہ انھیں اس کی وجہ سے جو انھوں نے کیا، کوئی نہ کوئی سخت مصیبت پہنچتی رہے گی، یا ان کے گھر کے قریب اترتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے۔ بے شک اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔[31]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
اَنَّ
قُرۡاٰنًا
سُیِّرَتۡ
بِہِ
الۡجِبَالُ
اَوۡ
قُطِّعَتۡ
بِہِ
الۡاَرۡضُ
اَوۡ
کُلِّمَ
بِہِ
الۡمَوۡتٰی
بَلۡ
لِّلّٰہِ
الۡاَمۡرُ
جَمِیۡعًا
اَفَلَمۡ
یَایۡئَسِ
الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اَنۡ
لَّوۡ
یَشَآءُ
اللّٰہُ
لَہَدَی
النَّاسَ
جَمِیۡعًا
وَلَایَزَالُ
الَّذِیۡنَ
کَفَرُوۡا
تُصِیۡبُہُمۡ
بِمَا
صَنَعُوۡا
قَارِعَۃٌ
اَوۡ
تَحُلُّ
قَرِیۡبًا
مِّنۡ دَارِہِمۡ
حَتّٰی
یَاۡتِیَ
وَعۡدُ
اللّٰہِ
اِنَّ
اللّٰہَ
لَایُخۡلِفُ
الۡمِیۡعَادَ
اور اگر
یقیناً
قرآن (ہوتا)
کہ )چلائے جاتے
اس کے ذریعے
پہاڑ
یا
پھاڑ دی جاتی
اس کے ذریعے
زمین
یا
کلام کیا جا تا
اس کے زریعے
مردوں سے
بلکہ
اللہ ہی کے لئے ہے
معاملہ
سارے کا سارا
کیا بھلا نہیں
مایوس ہوگئے
وہ لوگ جو
ایمان لائے
کہ
اگر
چاہتا
اللہ
البتہ وہ ہدایت دے دیتا
لوگوں کو
سب کے سب کو
اور ہمیشہ رہیں گے
وہ لوگ جنہوں نے
کفر کیا
پہنچتی رہے گی انہیں
بوجہ اس کے جو
انہوں نے کیا
کوئی آفت
یا
وہ اترتی رہے گی
قریب ہی
ان کے گھر کے
یہاں تک کہ
آجائے
وعدہ
اللہ کا
بےشک
اللہ تعالیٰ
نہیں وہ خلاف کرتا
وعدے کے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
اَنَّ
قُرۡاٰنًا
سُیِّرَتۡ
بِہِ
الۡجِبَالُ
اَوۡ
قُطِّعَتۡ
بِہِ
الۡاَرۡضُ
اَوۡ
کُلِّمَ
بِہِ
الۡمَوۡتٰی
بَلۡ
لِّلّٰہِ
الۡاَمۡرُ
جَمِیۡعًا
اَفَلَمۡ
یَایۡئَسِ
الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اَنۡ
لَّوۡ
یَشَآءُ
اللّٰہُ
لَہَدَی
النَّاسَ
جَمِیۡعًا
وَلَایَزَالُ
الَّذِیۡنَ
کَفَرُوۡا
تُصِیۡبُہُمۡ
بِمَا
صَنَعُوۡا
قَارِعَۃٌ
اَوۡ
تَحُلُّ
قَرِیۡبًا
مِّنۡ دَارِہِمۡ
حَتّٰی
یَاۡتِیَ
وَعۡدُ
اللّٰہِ
اِنَّ
اللّٰہَ
لَایُخۡلِفُ
الۡمِیۡعَادَ
اور اگر
واقعتاً
قرآن
چلا دئیے جاتے
جس کے ساتھ
پہاڑ
یا
ٹکڑے کر دی جاتی
جس کے ساتھ
زمین
یا
کلام کیا جاتا
اس کے ساتھ
مُردوں سے
بلکہ
اللہ کے لیے ہے
کام
سارے کا سارا
تو کیا نہیں
مایوس ہوگئے
وہ لوگ جو
ایمان لائے
یہ کہ
اگر
چاہتا
اللہ تعالیٰ
یقیناً ہدایت دے دیتا
انسانو ں کو
سب
اور ہمیشہ رہے گا
جن لوگوں نے
کفر کیا
آتی رہے گی ان پر
اس کی وجہ سے جو
انہوں نے کئے
کوئی آفت
یا
نازل ہو تی رہے گی
قریب
ان کے گھر کے
یہاں تک کہ
آ جائے گا
وعدہ
اللہ تعالیٰ کا
بلاشبہ
اللہ تعالیٰ
نہیں خلاف ورزی کرتا
وعدے کی
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَوْ
اَنَّ
قُرْاٰنًا
سُيِّرَتْ
بِهِ
الْجِبَالُ
اَوْ
قُطِّعَتْ
بِهِ
الْاَرْضُ
اَوْ
كُلِّمَ
بِهِ
الْمَوْتٰى
بَلْ
لِّلّٰهِ
الْاَمْرُ
جَمِيْعًا
اَفَلَمْ يَايْئَسِ
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا
اَنْ
لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ
لَهَدَى
النَّاسَ
جَمِيْعًا
وَلَا يَزَالُ
الَّذِيْنَ كَفَرُوْا
تُصِيْبُهُمْ
بِمَا صَنَعُوْا
قَارِعَةٌ
اَوْ تَحُلُّ
قَرِيْبًا
مِّنْ
دَارِهِمْ
حَتّٰى
يَاْتِيَ
وَعْدُ اللّٰهِ
اِنَّ اللّٰهَ
لَا يُخْلِفُ
الْمِيْعَادَ
اور اگر
یہ کہ (ہوتا)
ایسا قرآن
چلائے جاتے
اس سے
پہاڑ
یا
پھٹ جاتی
اس سے
زمین
یا
بات کرنے لگتے
اس سے
مردے
بلکہ
اللہ کے لیے
کام
تمام
تو کیا اطمینان نہیں ہوا
وہ لوگ جو ایمان لائے (مومن)
کہ
اگر اللہ چاہتا
تو ہدایت دیدیتا
لوگ
سب
اور ہمیشہ
وہ لوگ جو کافر ہوئے (کافر)
انہیں پہنچے گی
اس کے بدلے جو انہوں نے کیا (اعمال)
سخت مصیبت
یا اترے گی
قریب
سے (کے)
ان کے گھر
یہانتک
آجائے
اللہ کا وعدہ
بیشک اللہ
خلاف نہیں کرتا
وعدہ
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]