اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھائو اور نہ انھیں حاکموں کی طرف لے جائو، تاکہ لوگوں کے مالوں میں سے ایک حصہ گناہ کے ساتھ کھا جائو، حالانکہ تم جانتے ہو۔[188]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَا
تَاۡکُلُوۡۤا
اَمۡوَالَکُمۡ
بَیۡنَکُمۡ
بِالۡبَاطِلِ
وَتُدۡلُوۡا
بِہَاۤ
اِلَی الۡحُکَّامِ
لِتَاۡکُلُوۡا
فَرِیۡقًا
مِّنۡ اَمۡوَالِ
النَّاسِ
بِالۡاِثۡمِ
وَاَنۡتُمۡ
تَعۡلَمُوۡنَ
اور نہ
تم کھاؤ
اپنے مالوں کو
آپس میں
باطل(طریقے)سے
اور(نہ) تم پہنچاؤ
انہیں
طرف حاکموں کے
تاکہ تم کھاؤ
ایک حصہ
مالوں میں سے
لوگوں کے
ساتھ گناہ کے
حالانکہ تم
تم جانتے ہو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَاتَاۡکُلُوۡۤا
اَمۡوَالَکُمۡ
بَیۡنَکُمۡ
بِالۡبَاطِلِ
وَتُدۡلُوۡابِہَاۤ
اِلَی الۡحُکَّامِ
لِتَاۡکُلُوۡا
فَرِیۡقًا
مِّنۡ اَمۡوَالِ
النَّاسِ
بِالۡاِثۡمِ
وَاَنۡتُمۡ
تَعۡلَمُوۡنَ
اور نہ تم کھاؤ
مال ا پنے
آپس میں
باطل طریقے سے
اور(نہ) تم لے جاؤان کو
حاکموں کی طر ف
تاکہ تم کھاجاؤ
ایک حصہ
مالو ں میں سے
لوگوں کے
گناہ کےسا تھ
اس حا ل میں کہ تم
تم جانتے ہو
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَا
تَاْكُلُوْٓا
اَمْوَالَكُمْ
بَيْنَكُمْ
بالْبَاطِلِ
وَتُدْلُوْا
بِهَآ
اِلَى الْحُكَّامِ
لِتَاْكُلُوْا
فَرِيْقًا
مِّنْ
اَمْوَالِ
النَّاسِ
بِالْاِثْمِ
وَاَنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ
اور نہ
کھاؤ
اپنے مال
آپس میں
ناحق
اور (نہ) پہنچاؤ
اس سے
حاکموں تک
تاکہ تم کھاؤ
کوئی حصہ
سے
مال
لوگ
گناہ سے
اور تم
جانتے ہو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]