اللہ نے ایک مثال بیان کی، ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت ہے، کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ شخص جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق دیا ہے تو وہ اس میں سے پوشیدہ اور کھلم کھلا خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہیں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔[75]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
ضَرَبَ
اللّٰہُ
مَثَلًا
عَبۡدًا
مَّمۡلُوۡکًا
لَّایَقۡدِرُ
عَلٰی شَیۡءٍ
وَّمَنۡ
رَّزَقۡنٰہُ
مِنَّا
رِزۡقًا
حَسَنًا
فَہُوَ
یُنۡفِقُ
مِنۡہُ
سِرًّا
وَّجَہۡرًا
ہَلۡ
یَسۡتَوٗنَ
اَلۡحَمۡدُ
لِلّٰہِ
بَلۡ
اَکۡثَرُہُمۡ
لَایَعۡلَمُوۡنَ
بیان کی
اللہ نے
مثال
ایک غلام
مملوک کی
نہیں وہ قدرت رکھتا
کسی چیز کے
اور اس کی جو
رزق دیا ہم نے اسے
اپنی طرف سے
رزق
اچھا
تو وہ
وہ خرچ کرتا ہے
اس میں سے
پوشیدہ
اور علانیہ
کیا
وہ برابر ہوسکتے ہیں
سب تعریف
اللہ کے لیے ہے
بلکہ
اکثر ان کے
نہیںوہ علم رکھتے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
ضَرَبَ
اللّٰہُ
مَثَلًا
عَبۡدًا
مَّمۡلُوۡکًا
لَّایَقۡدِرُ
عَلٰی
شَیۡءٍ
وَّمَنۡ
رَّزَقۡنٰہُ
مِنَّا
رِزۡقًا
حَسَنًا
فَہُوَ
یُنۡفِقُ
مِنۡہُ
سِرًّا
وَّجَہۡرًا
ہَلۡ
یَسۡتَوٗنَ
اَلۡحَمۡدُ
لِلّٰہِ
بَلۡ
اَکۡثَرُہُمۡ
لَایَعۡلَمُوۡنَ
بیان کی
اللہ تعالیٰ نے
مثال
ایک غلام
جو کسی کی ملکیت میں ہے
نہیں وہ اختیار رکھتا
اوپر
کسی چیز کے
اورجسے
رزق دیا ہم نے اس کو
اپنی جناب سے
رزق
اچھا
تو وہ
وہ خرچ کرتا ہے
اس میں سے
پوشیدہ
اور اعلانیہ
کیا
وہ دونوں برابر ہیں
سب تعریف
اللہ تعالیٰ کے لیے ہے
بلکہ
اکثر ان کے
نہیں وہ جانتے
حافظ نذر احمد حفظه الله
ضَرَبَ
اللّٰهُ
مَثَلًا
عَبْدًا
مَّمْلُوْكًا
لَّا يَقْدِرُ
عَلٰي
شَيْءٍ
وَّمَنْ
رَّزَقْنٰهُ
مِنَّا
رِزْقًا
حَسَنًا
فَهُوَ
يُنْفِقُ
مِنْهُ
سِرًّا
وَّجَهْرًا
هَلْ
يَسْتَوٗنَ
اَلْحَمْدُ
لِلّٰهِ
بَلْ
اَكْثَرُهُمْ
لَا يَعْلَمُوْنَ
بیان کیا
اللہ
ایک مثال
ایک غلام
ملک میں آیا ہوا
وہ اختیار نہیں رکھتا
پر
کسی شئے
اور جو
ہم نے اسے رزق دیا
اپنی طرف سے
رزق
اچھا
سو وہ
خرچ کرتا ہے
اس سے
پوشیدہ
اور ظاہر
کیا
وہ برابر ہیں
تمام تعریف
اللہ کے لیے
بلکہ
ان میں سے اکثر
نہیں جانتے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔