اور اللہ نے ایک مثال بیان کی، دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے، کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے، وہ اسے جہاں بھی بھیجتا ہے، کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا یہ اور وہ شخص برابر ہیں جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے اور وہ سیدھے راستے پر ہے۔[76]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَضَرَبَ
اللّٰہُ
مَثَلًا
رَّجُلَیۡنِ
اَحَدُہُمَاۤ
اَبۡکَمُ
لَایَقۡدِرُ
عَلٰی شَیۡءٍ
وَّہُوَ
کَلٌّ
عَلٰی مَوۡلٰىہُ
اَیۡنَمَا
یُوَجِّہۡہُّ
لَایَاۡتِ
بِخَیۡرٍ
ہَلۡ
یَسۡتَوِیۡ
ہُوَ
وَمَنۡ
یَّاۡمُرُ
بِالۡعَدۡلِ
وَہُوَ
عَلٰی صِرَاطٍ
مُّسۡتَقِیۡمٍ
اور بیان کی
اللہ تعالی نے
ایک مثال
دو مردوں کی
ان دونوں میں سے ایک
گونگا ہے
نہیں وہ قدرت رکھتا
کسی چیز پر
اور وہ
بوجھ ہے
اپنے مالک پر
جہاں کہیں
وہ بھیجتا ہے اس ے
نہیں وہ لاتا
کوئی بھلائی
کیا
برابر ہوسکتا ہے
وہ
اور وہ جو
حکم دیتا ہے
انصاف کا
اور وہ
اپر راستے
سیدھے کے ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَضَرَبَ
اللّٰہُ
مَثَلًا
رَّجُلَیۡنِ
اَحَدُہُمَاۤ
اَبۡکَمُ
لَایَقۡدِرُ
عَلٰی شَیۡءٍ
وَّہُوَ
کَلٌّ
عَلٰی مَوۡلٰىہُ
اَیۡنَمَا
یُوَجِّہۡہُّ
لَایَاۡتِ
بِخَیۡرٍ
ہَلۡ
یَسۡتَوِیۡ
ہُوَ
وَمَنۡ
یَّاۡمُرُ
بِالۡعَدۡلِ
وَہُوَ
عَلٰی صِرَاطٍ
مُّسۡتَقِیۡمٍ
اور بیان کی
اللہ تعالیٰ نے
مثال
دو آدمیوں کی
ان میں سے ایک
گونگا ہے
نہیں وہ اختیار رکھتا
کسی چیز پر
اور وہ
بوجھ ہے
اپنےآقا پر
جہاں بھی
وہ بھیجتا ہے اسے
نہیں وہ لاتا
کوئی بھلائی
کیا
برابر ہے
وہ
اور جو
حکم دیتا ہے
انصاف کا
اور وہ
راستے پر ہے
سیدھے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَضَرَبَ
اللّٰهُ
مَثَلًا
رَّجُلَيْنِ
اَحَدُهُمَآ
اَبْكَمُ
لَا يَقْدِرُ
عَلٰي شَيْءٍ
وَّهُوَ
كَلٌّ
عَلٰي
مَوْلٰىهُ
اَيْنَمَا
يُوَجِّهْهُّ
لَا يَاْتِ
بِخَيْرٍ
هَلْ
يَسْتَوِيْ
هُوَ
وَمَنْ
يَّاْمُرُ
بِالْعَدْلِ
وَهُوَ
عَلٰي
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِيْمٍ
اور بیان کیا
اللہ
ایک مثال
دو آدمی
ان میں سے ایک
گونگا
وہ اختیار نہیں رکھتا
کسی شے پر
اور وہ
بوجھ
پر
اپنا آقا
جہاں کہیں
وہ بھیجے اس کو
وہ نہ لائے
کوئی بھلائی
کیا
برابر
وہ۔ یہ
اور جو
حکم دیتا ہے
عدل کے ساتھ
اور وہ
پر
راہ
سیدھی
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔
عَدْل:دوسرے کو اس کا پورا پورا حق یا اس کی مالیت کے برابر اس کا عوض دینا اور تناسب اور مساوات کو ملحوظ رکھنا اور اس کا استعمال ظاہری اور باطنی اموار میں عام ہیں۔