اور اس کا سارا پھل مارا گیا تو اس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنی ہتھیلیاں ملتا تھا اس پر جو اس میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتوں سمیت گرا ہوا تھا اور کہتا تھا اے کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔[42]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَ اُحِیۡطَ
بِثَمَرِہٖ
فَاَصۡبَحَ
یُقَلِّبُ
کَفَّیۡہِ
عَلٰی
مَاۤ
اَنۡفَقَ
فِیۡہَا
وَہِیَ
خَاوِیَۃٌ
عَلٰی عُرُوۡشِہَا
وَیَقُوۡلُ
یٰلَیۡتَنِیۡ
لَمۡ
اُشۡرِکۡ
بِرَبِّیۡۤ
اَحَدًا
اور گھیر لیا گیا
پھل اس کا
تو اس نے صبح کی
وہ ملتا تھا
اپنی دونوں ہتھیلیاں
اس پر
جو
اس نے خرچ کیا
اس میں
اور وہ(باغ)
گرا پڑا تھا
اپنی چھتوں پر
اور وہ کہہ رہا تھا
اے کاش کہ میں
نہ
میں شریک کرتا
ساتھ اپنے رب کے
کسی ایک کو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَ اُحِیۡطَ
بِثَمَرِہٖ
فَاَصۡبَحَ
یُقَلِّبُ
کَفَّیۡہِ
عَلٰی
مَاۤ
اَنۡفَقَ
فِیۡہَا
وَہِیَ
خَاوِیَۃٌ
عَلٰی عُرُوۡشِہَا
وَیَقُوۡلُ
یٰلَیۡتَنِیۡ
لَمۡ اُشۡرِکۡ
بِرَبِّیۡۤ
اَحَدًا
اورگھیر لیا گیا
پھل اس کا
چنانچہ وہ ہو گیا
وہ ملتا تھا
اپنے ہاتھ
اوپر اس کے
جو
اس نے خرچ کیا
اس میں
اور وہ
گرا پڑا تھا
اپنی چھتوں پر
اور وہ کہنے لگا
اے کاش کہ میں نے
نہ شریک بنایا ہوتا
اپنے رب کے ساتھ
کسی ایک کو
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاُحِيْطَ
بِثَمَرِهٖ
فَاَصْبَحَ
يُقَلِّبُ
كَفَّيْهِ
عَلٰي
مَآ اَنْفَقَ
فِيْهَا
وَھِيَ
خَاوِيَةٌ
عَلٰي
عُرُوْشِهَا
وَيَقُوْلُ
يٰلَيْتَنِيْ
لَمْ اُشْرِكْ
بِرَبِّيْٓ
اَحَدًا
اور گھیر لیا گیا
اس کے پھل
پس وہ رہ گیا
وہ ملنے لگا
اپنے ہاتھ
پر
جو اس نے خرچ کیا
اس میں
اور وہ
گرا ہوا
پر
اپنی چھتریاں
اور وہ کہنے لگا
اے کاش
میں شریک نہ کرتا
اپنے رب کے ساتھ
کسی کو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]