پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی والوں کے پاس آئے، انھوں نے اس کے رہنے والوں سے کھانا طلب کیا تو انھوں نے انکار کر دیا کہ ان کی مہمان نوازی کریں، پھر انھوں نے اس میں ایک دیوار پائی جو چاہتی تھی کہ گر جائے تو اس نے اسے سیدھا کر دیا۔ کہا اگر تو چاہتا تو ضرور اس پر کچھ اجرت لے لیتا۔[77]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَانۡطَلَقَا
حَتّٰۤی
اِذَاۤ
اَتَیَاۤ
اَہۡلَ قَرۡیَۃِۣ
اسۡتَطۡعَمَاۤ
اَہۡلَہَا
فَاَبَوۡا
اَنۡ
یُّضَیِّفُوۡہُمَا
فَوَجَدَا
فِیۡہَا
جِدَارًا
یُّرِیۡدُ
اَنۡ
یَّنۡقَضَّ
فَاَقَامَہٗ
قَالَ
لَوۡ
شِئۡتَ
لَتَّخَذۡتَ
عَلَیۡہِ
اَجۡرًا
پس وہ دونوں چل دیئے
یہاں تک کہ
جب
وہ دونوں آئے
ایک بستی والوں کے پاس
تو ان دونوں نے کھانا مانگا
اس کے رہنے والوں سے
تو انہوں نے انکار کردیا
کہ
وہ مہمان بنائیں انہیں
تو ان دونوں نے پائی
اس میں
ایک دیوار
وہ چاہتی تھی
کہ
وہ ٹوٹ گرے
تو اس نے سیدھا کھڑا کر دیا اسے
اس نے کہا
اگر
چاہتے تم
البتہ تو لے لیتا
اس پر
کوئی اجرت
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَانۡطَلَقَا
حَتّٰۤی
اِذَاۤ
اَتَیَاۤ
اَہۡلَ قَرۡیَۃِۣ
اسۡتَطۡعَمَاۤ
اَہۡلَہَا
فَاَبَوۡا
اَنۡ
یُّضَیِّفُوۡہُمَا
فَوَجَدَا
فِیۡہَا
جِدَارًا
یُّرِیۡدُ
اَنۡ
یَّنۡقَضَّ
فَاَقَامَہٗ
قَالَ
لَوۡ
شِئۡتَ
لَتَّخَذۡتَ
عَلَیۡہِ
اَجۡرًا
چنا نچہ وہ دونوں چل پڑے
حتیٰ کہ
جب
آئے وہ دونوں
ایک بستی والوں کے پاس
ان دونوں نے کھانا طلب کیا
اس کے باشندوں سے
تو انہوں نے انکار کردیا
کہ
وہ ان دونوں کی مہمان نوازی کریں
پھر ان دونوں نے پائی
اس میں
ایک دیوار
چاہتی تھی
یہ کہ
وہ گر جائے
تو اس نے اسے سیدھا کردیا
اس نے کہا
اگر
آپ چاہتے
آپ لے لیتے
اس پر
کوئی اجرت
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَانْطَلَقَا
حَتّٰٓي
اِذَآ اَتَيَآ
اَهْلَ قَرْيَةِ
اسْتَطْعَمَآ
اَهْلَهَا
فَاَبَوْا اَنْ
يُّضَيِّفُوْهُمَا
فَوَجَدَا
فِيْهَا جِدَارًا
يُّرِيْدُ
اَنْ يَّنْقَضَّ
فَاَقَامَهٗ
قَالَ
لَوْ شِئْتَ
لَتَّخَذْتَ
عَلَيْهِ
اَجْرًا
پھر وہ دونوں چلے
یہاں تک کہ
جب وہ دونوں آئے
ایک گاؤں والوں کے پاس
دونوں نے کھانا مانگا
اس کے باشندے
تو انہوں نے انکار کردیا کہ
وہ ان کی ضیافت کریں
پھر انہوں نے پائی (دیکھی)
اس میں (وہاں) ایک دیوار
وہ چاہتی تھی
کہ وہ گرپڑے
تو اس نے اسے سیدھا کردیا
اس نے کہا
اگر تم چاہتے
لے لیتے
اس پر
اجرت
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔