اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔[47]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَنَضَعُ
الۡمَوَازِیۡنَ
الۡقِسۡطَ
لِیَوۡمِ
الۡقِیٰمَۃِ
فَلَا
تُظۡلَمُ
نَفۡسٌ
شَیۡئًا
وَاِنۡ
کَانَ
مِثۡقَالَ
حَبَّۃٍ
مِّنۡ خَرۡدَلٍ
اَتَیۡنَا
بِہَا
وَکَفٰی
بِنَا
حٰسِبِیۡنَ
اور ہم رکھ دیں گے
ترازو
انصاف والے
دن
قیامت کے
تو نہ
ظلم کیا جائے گا
کسی نفس پر
کچھ بھی
اور اگرچہ
ہو وہ
برابر
دانے
رائی کے
ہم لے آئیں گے
اسے
اور کافی ہیں
ہم
حساب لینے والے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَنَضَعُ
الۡمَوَازِیۡنَ
الۡقِسۡطَ
لِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ
فَلَا تُظۡلَمُ
نَفۡسٌ
شَیۡئًا
وَاِنۡ
کَانَ
مِثۡقَالَ
حَبَّۃٍ
مِّنۡ خَرۡدَلٍ
اَتَیۡنَا
بِہَا
وَکَفٰی
بِنَا حٰسِبِیۡنَ
اور ہم رکھ دیں گے
ترازو
انصاف کے
قیامت کے دن
پھر نہیں ظلم کیا جائے گا
کسی جان پر
کچھ بھی
اور اگر
ہو
برابر
ایک دانے کے
رائی کے
ہم لے آئیں گے
اسے
اور کافی ہیں
ہم حسا ب کرنے کے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَنَضَعُ
الْمَوَازِيْنَ
الْقِسْطَ
لِيَوْمِ
الْقِيٰمَةِ
فَلَا تُظْلَمُ
نَفْسٌ
شَيْئًا
وَ اِنْ
كَانَ
مِثْقَالَ
حَبَّةٍ
مِّنْ خَرْدَلٍ
اَتَيْنَا بِهَا
وَكَفٰى
بِنَا
حٰسِبِيْنَ
اور ہم رکھیں گے (قائم کرینگے)
ترازو۔ میزان
انصاف
دن
قیامت
تو نہ ظلم کیا جائے گا
کسی شخص پر
کچھ بھی
اور اگر
ہوگا
وزان۔ برابر
ایک دانہ
رائی سے۔ کا
ہم اسے لے آئیں گے
اور کافی
ہم
حساب لینے والے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قِسْط:کا لفظ دوسرے کو اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ یکمیشت ہو یا بالا قساط۔ خصوصاً جبکہ باب افعال سے ہو اور اس کا تعلق ظاہری چیزوں سے ہوتا ہے۔