اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر الٹا پھر جاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔[11]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَمِنَ النَّاسِ
مَنۡ
یَّعۡبُدُ
اللّٰہَ
عَلٰی حَرۡفٍ
فَاِنۡ
اَصَابَہٗ
خَیۡرُۨ
اطۡمَاَنَّ
بِہٖ
وَاِنۡ
اَصَابَتۡہُ
فِتۡنَۃُۨ
انۡقَلَبَ
عَلٰی وَجۡہِہٖ
خَسِرَ
الدُّنۡیَا
وَالۡاٰخِرَۃَ
ذٰلِکَ
ہُوَ
الۡخُسۡرَانُ
الۡمُبِیۡنُ
اور لوگوں میں سے کوئی ہے
جو
عبادت کرتا ہے
اللہ کی
کنارے پر
پھر اگر
پہنچے اسے
بھلائی
وہ مطمئن ہو جاتا ہے
اس پر
اور اگر
پہنچے اسے
آزمائش
وہ پلٹ جاتا ہے
اپنے چہرے پر
اس نے نقصان اٹھایا
دنیا
اور آخرت کا
یہ ہے
وہ
خسارہ/نقصان
کھلا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَمِنَ النَّاسِ
مَنۡ
یَّعۡبُدُ
اللّٰہَ
عَلٰی حَرۡفٍ
فَاِنۡ
اَصَابَہٗ
خَیۡرُۨ
اطۡمَاَنَّ
بِہٖ
وَاِنۡ
اَصَابَتۡہُ
فِتۡنَۃُۨ
انۡقَلَبَ
عَلٰی وَجۡہِہٖ
خَسِرَ
الدُّنۡیَا
وَالۡاٰخِرَۃَ
ذٰلِکَ
ہُوَ
الۡخُسۡرَانُ
الۡمُبِیۡنُ
اور لوگوں میں سے ہے
جو
عبادت کرتاہے
اللہ تعالیٰ کی
کنارے پر
پھر اگر
پہنچے اس کو
فائدہ
مطمئن ہوجاتا ہے
اس پر
اور اگر
آتی ہے اس کو
کوئی آزمائش
وہ پلٹ جاتا ہے
اپنے چہرے کے بل
اس نے خسارہ اٹھایا
دنیا میں
اور آخرت میں بھی
یہی
وہ
خسارہ ہے
کھلا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَ
مِنَ
النَّاسِ
مَنْ
يَّعْبُدُ
اللّٰهَ
عَلٰي
حَرْفٍ
فَاِنْ
اَصَابَهٗ
خَيْرُ
ۨ اطْمَاَنَّ
بِهٖ
وَاِنْ
اَصَابَتْهُ
فِتْنَةُ
ۨ انْقَلَبَ
عَلٰي
وَجْهِهٖ
ڗ خَسِرَ الدُّنْيَا
وَالْاٰخِرَةَ
ذٰلِكَ
هُوَ الْخُسْرَانُ
الْمُبِيْنُ
اور
سے
لوگ
جو
بندگی کرتا ہے
اللہ
پر
ایک کنارہ
پھر اگر
اسے پہنچ گئی
بھلائی
تو اطمینان پالیا
اس سے
اور اگر
اسے پہنچی
کوئی آزمائش
تو پلٹ گیا
پر۔ بل
اپنا منہ
دنا کا فساد
اور آخرت
یہ ہے
وہ گھاٹا
کھلا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔