رسول کے بلانے کو اپنے درمیان اس طرح نہ بنالو جیسے تمھارے بعض کا بعض کو بلانا ہے۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔ سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔[63]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
لَاتَجۡعَلُوۡا
دُعَآءَ
الرَّسُوۡلِ
بَیۡنَکُمۡ
کَدُعَآءِ
بَعۡضِکُمۡ
بَعۡضًا
قَدۡ
یَعۡلَمُ
اللّٰہُ
الَّذِیۡنَ
یَتَسَلَّلُوۡنَ
مِنۡکُمۡ
لِوَاذًا
فَلۡیَحۡذَرِ
الَّذِیۡنَ
یُخَالِفُوۡنَ
عَنۡ اَمۡرِہٖۤ
اَنۡ
تُصِیۡبَہُمۡ
فِتۡنَۃٌ
اَوۡ
یُصِیۡبَہُمۡ
عَذَابٌ
اَلِیۡمٌ
نہ تم بنا لو
بلانا
رسول کا
آپس میں
مانند بلانے کے
تمہارے بعض کے
بعض کو
تحقیق
جانتا ہے
اللہ
ان کو جو
کھسک جاتے ہیں
تم میں سے
آڑ لیتے ہوئے
پس چاہیے کہ ڈریں
وہ لوگ جو
مخالفت کرتے ہیں
اس کے حکم کی
کہ
پہنچے انہیں
کوئی آزمائش
یا
پہنچے انہیں
عذاب
دردناک
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
لَاتَجۡعَلُوۡا
دُعَآءَ
الرَّسُوۡلِ
بَیۡنَکُمۡ
کَدُعَآءِ
بَعۡضِکُمۡ
بَعۡضًا
قَدۡ
یَعۡلَمُ
اللّٰہُ
الَّذِیۡنَ
یَتَسَلَّلُوۡنَ
مِنۡکُمۡ
لِوَاذًا
فَلۡیَحۡذَرِ
الَّذِیۡنَ
یُخَالِفُوۡنَ
عَنۡ اَمۡرِہٖۤ
اَنۡ
تُصِیۡبَہُمۡ
فِتۡنَۃٌ
اَوۡ
یُصِیۡبَہُمۡ
عَذَابٌ
اَلِیۡمٌ
نہ تم بناؤ
بلانے کو
رسول کے
اپنے درمیان
جیسا کہ بلانا ہے
تم میں سے بعض کا
بعض کو
یقیناً
جانتا ہے
اللہ تعالیٰ
اُن کو جو
کھسک جاتے ہیں
تم میں سے
آڑلیتے ہوئے
سو لازما ًڈریں
وہ لوگ جو
خلاف ورزی کرتے ہیں
اس (رسول) کے حکم کی
یہ کہ
پہنچے اُنہیں
کوئی فتنہ
یا
پہنچے ان کو
عذاب
دردناک
حافظ نذر احمد حفظه الله
لَا تَجْعَلُوْا
دُعَآءَ
الرَّسُوْلِ
بَيْنَكُمْ
كَدُعَآءِ
بَعْضِكُمْ
بَعْضًا
قَدْ يَعْلَمُ
اللّٰهُ
الَّذِيْنَ
يَتَسَلَّلُوْنَ
مِنْكُمْ
لِوَاذًا
فَلْيَحْذَرِ
الَّذِيْنَ
يُخَالِفُوْنَ
عَنْ اَمْرِهٖٓ
اَنْ
تُصِيْبَهُمْ
فِتْنَةٌ
اَوْ يُصِيْبَهُمْ
عَذَابٌ
اَلِيْمٌ
تم نہ بنا لو
بلانا
رسول کو
اپنے درمیان
جیسے بلانا
اپنے بعض (ایک)
بعض (دوسرے) کو
تحقیق جانتا ہے
اللہ
جو لوگ
چپکے سے کھسک جاتے ہیں
تم میں سے
نظر بچا کر
پس چاہیے کہ وہ ڈریں
جو لوگ
خلاف کرتے ہیں
اس کے حکم سے
کہ
پہنچے ان پر
کوئی آفت
یا پہنچے ان کو
عذاب
دردناک
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔