وہ ذات کہ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا، پورا اندازہ۔[2]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
ۣالَّذِیۡ
لَہٗ
مُلۡکُ
السَّمٰوٰتِ
وَ الۡاَرۡضِ
وَلَمۡ
یَتَّخِذۡ
وَلَدًا
وَّلَمۡ
یَکُنۡ
لَّہٗ
شَرِیۡکٌ
فِی الۡمُلۡکِ
وَخَلَقَ
کُلَّ
شَیۡءٍ
فَقَدَّرَہٗ
تَقۡدِیۡرًا
وہ جو
اسی کے لیے ہے
بادشاہت
آسمانوں
اور زمین کی
اور نہیں
اس نے بنائی
کوئی اولاد
اور نہیں
ہے
اس کے لیے
کوئی شریک
بادشاہت میں
اور اس نے پیدا کیا
ہر
چیز کو
پس اس نے اندازہ کیا اس کا
اندازہ کرنا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
ۣالَّذِیۡ
لَہٗ
مُلۡکُ
السَّمٰوٰتِ
وَ الۡاَرۡضِ
وَلَمۡ یَتَّخِذۡ
وَلَدًا
وَّلَمۡ
یَکُنۡ
لَّہٗ
شَرِیۡکٌ
فِی الۡمُلۡکِ
وَخَلَقَ
کُلَّ شَیۡءٍ
فَقَدَّرَہٗ
تَقۡدِیۡرًا
وہ جو
جس کے لیے
بادشاہی
آسمانوں کی
اور زمین کی
اور نہیں بنائی اس نے
کوئی اولاد
اور نہیں
کبھی ہے
اس کا
کوئی شریک
بادشاہی میں
اور اُس نے پیدا کیا
ہر چیز کو
پھر اس نے اندازہ مقرر کیا اُس کا
پورا اندازہ
حافظ نذر احمد حفظه الله
الَّذِيْ لَهٗ
مُلْكُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
وَلَمْ يَتَّخِذْ
وَلَدًا
وَّلَمْ يَكُنْ
لَّهُ
شَرِيْكٌ
فِي الْمُلْكِ
وَخَلَقَ
كُلَّ شَيْءٍ
فَقَدَّرَهٗ
تَقْدِيْرًا
وہ جس کے لیے
بادشاہت
آسمانوں
اور زمین
اور اس نے نہیں بنایا
کوئی بیٹا
اور نہیں ہے
اس کا
کوئی شریک
سلطنت میں
اور اس نے پیدا کیا
ہر شے
پھر اس کا اندازہ ٹھہرایا
ایک اندازہ
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔