اور تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے، انھیںجمے ہوئے گمان کرتا ہے، حالانکہ وہ(اس وقت) بادلوں کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے، اس اللہ کی کاری گری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ یقینا وہ اس سے خوب باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔[88]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَتَرَی
الۡجِبَالَ
تَحۡسَبُہَا
جَامِدَۃً
وَّہِیَ
تَمُرُّ
مَرَّ
السَّحَابِ
صُنۡعَ
اللّٰہِ
الَّذِیۡۤ
اَتۡقَنَ
کُلَّ
شَیۡءٍ
اِنَّہٗ
خَبِیۡرٌۢ
بِمَا
تَفۡعَلُوۡنَ
اور آپ دیکھتے ہیں
پہاڑوں کو
آپ سمجھتے ہیں انہیں
جامد
حالانکہ وہ
وہ چلتے ہیں
چلنا
بادلوں کا
کاریگری/صنعت ہے
اللہ کی
وہ جس نے
مضبوط بنایا
ہر
چیز کو
بےشک وہ
خوب خبر رکھنے والا ہے
اس کو جو
تم کرتے ہو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَتَرَی
الۡجِبَالَ
تَحۡسَبُہَا
جَامِدَۃً
وَّہِیَ
تَمُرُّ
مَرَّ
السَّحَابِ
صُنۡعَ
اللّٰہِ
الَّذِیۡۤ
اَتۡقَنَ
کُلَّ شَیۡءٍ
اِنَّہٗ
خَبِیۡرٌۢ
بِمَا
تَفۡعَلُوۡنَ
اور آپ دیکھو گے
پہاڑوں کو
آپ گمان کرو گے انہیں
جما ہوا
حالانکہ وہی
چل رہے ہوں گے
چلنے کی طرح
بادلوں کے
کاری گری ہے
اللہ تعالی کی
جس نے
خوب مضبوط بنایا ہے
ہر چیز کو
یقیناً وہ
خوب با خبر ہے
اس سے جو
تم کرتے ہو
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَتَرَى
الْجِبَالَ
تَحْسَبُهَا
جَامِدَةً
وَّهِىَ
تَمُرُّ
مَرَّ السَّحَابِ
صُنْعَ اللّٰهِ
الَّذِيْٓ
اَتْقَنَ
كُلَّ شَيْءٍ
اِنَّهٗ
خَبِيْرٌ
بِمَا
تَفْعَلُوْنَ
اور تو دیکھتا ہے
پہاڑ (جمع)
تو خیال کرتا ہے انہیں
جما ہوا
اور وہ
چلیں گے
بادلوں کی طرح چلنا
اللہ کی کاری گری
وہ جس نے
خوبی سے بنایا
ہر شے
بیشک وہ
باخبر
اس سے جو
تم کرتے ہو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]