تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی، اس نے کہا بے شک میرا والد تجھے بلا رہا ہے، تاکہ تجھے اس کا بدلہ دے جو تو نے ہمارے لیے پانی پلایا ہے۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کے سامنے حال بیان کیا تو اس نے کہا خوف نہ کر، تو ان ظالم لوگوں سے بچ نکلا ہے۔[25]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَجَآءَتۡہُ
اِحۡدٰىہُمَا
تَمۡشِیۡ
عَلَی اسۡتِحۡیَآءٍ
قَالَتۡ
اِنَّ
اَبِیۡ
یَدۡعُوۡکَ
لِیَجۡزِیَکَ
اَجۡرَ
مَا
سَقَیۡتَ
لَنَا
فَلَمَّا
جَآءَہٗ
وَقَصَّ
عَلَیۡہِ
الۡقَصَصَ
قَالَ
لَاتَخَفۡ
نَجَوۡتَ
مِنَ الۡقَوۡمِ
الظّٰلِمِیۡنَ
تو آئی اس کے پاس
ان دونوں میں سے ایک
چلتی ہوئی
ساتھ حیا کے
وہ کہنے لگی
بےشک
میرے والد
بلا رہے ہیں تمہیں
تا کہ وہ بدلے میں تمہیں
اجرت
اس کی جو
پانی پلایا تو نے
ہمارے لیے
تو جب
وہ آگیا اس کے پاس
اور اس نے بیان کیا
اس پر
قصّہ
اس نے کہا
نہ تم ڈرو
نجات پا گئے ہو تم
ان لوگوں سے
جو ظالم ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَجَآءَتۡہُ
اِحۡدٰىہُمَا
تَمۡشِیۡ
عَلَی اسۡتِحۡیَآءٍ
قَالَتۡ
اِنَّ
اَبِیۡ
یَدۡعُوۡکَ
لِیَجۡزِیَکَ
اَجۡرَ
مَا
سَقَیۡتَ
لَنَا
فَلَمَّا
جَآءَہٗ
وَقَصَّ
عَلَیۡہِ
الۡقَصَصَ
قَالَ
لَاتَخَفۡ
نَجَوۡتَ
مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ
تو آئی اُس کے پاس
اُن دونوں میں سے ایک
چل کر
شرم و حیاء کے ساتھ
اُس نے کہا
یقیناً
میرے والد
وہ بُلاتے ہیں آپ کو
تاکہ وہ دیں آپ کو
بدلہ
جو
آپ نے پلایا
ہمارے لیے
توجب
وہ آیا اُس کے پاس
اور بیان کیا
اُس سے
ساراحال
اُس نے کہا
تم ڈرو نہیں
نجات پائی ہے تم نے
ظالم قوم سے
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَجَآءَتْهُ
اِحْدٰىهُمَا
تَمْشِيْ
عَلَي اسْتِحْيَآءٍ
قَالَتْ
اِنَّ
اَبِيْ
يَدْعُوْكَ
لِيَجْزِيَكَ
اَجْرَ
مَا سَقَيْتَ
لَنَا
فَلَمَّا
جَآءَهٗ
وَقَصَّ
عَلَيْهِ
الْقَصَصَ
قَالَ
لَا تَخَفْ
نَجَوْتَ
مِنَ
الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ
پھر اس کے پاس آئی
ان دونوں میں سے ایک
چلتی ہوئی
شرم سے
وہ بولی
بیشک
میرا والد
تجھے بلاتا ہے
تاکہ تجھے دے وہ
صلہ
جو تونے پانی پلایا
ہمارے لیے
پس جب
اس کے پاس گیا
اور بیان کیا
اس سے
احوال
اس نے کہا
ڈرو نہیں
تم بچ آئے
سے
ظالموں کی قوم
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]