اس نے کہا بے شک میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کردوں، اس (شرط) پر کہ تو آٹھ سال میری مزدوری کرے گا، پھر اگر تو دس پورے کردے تو وہ تیری طرف سے ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ پر مشقت ڈالوں، اگر اللہ نے چاہا تو یقینا تو مجھے نیک لوگوں سے پائے گا۔[27]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
اِنِّیۡۤ
اُرِیۡدُ
اَنۡ
اُنۡکِحَکَ
اِحۡدَی
ابۡنَتَیَّ
ہٰتَیۡنِ
عَلٰۤی
اَنۡ
تَاۡجُرَنِیۡ
ثَمٰنِیَ
حِجَجٍ
فَاِنۡ
اَتۡمَمۡتَ
عَشۡرًا
فَمِنۡ عِنۡدِکَ
وَمَاۤ
اُرِیۡدُ
اَنۡ
اَشُقَّ
عَلَیۡکَ
سَتَجِدُنِیۡۤ
اِنۡ
شَآءَ
اللّٰہُ
مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ
اس نے کہا
بےشک میں
میں چاہتا ہوں
کہ
میں نکاح کر دوں تم سے
ایک کا
اپنی دونوں بیٹیوں میں سے
ان دو
اس (شرط)پر
کہ
تم مزدوری کرو میری
آٹھ
سال
پھر اگر
پورے کر دو تم
دس (سال)
تو تمہاری طرف سے ہے
اور نہیں
میں چاہتا
کہ
میں مشقت ڈالوں
تم پر
یقیناً تم پاؤ گے مجھے
اگر
چاہا
اللہ نے
نیک لوگوں میں سے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
اِنِّیۡۤ
اُرِیۡدُ
اَنۡ
اُنۡکِحَکَ
اِحۡدَی
ابۡنَتَیَّ
ہٰتَیۡنِ
عَلٰۤی
اَنۡ
تَاۡجُرَنِیۡ
ثَمٰنِیَ
حِجَجٍ
فَاِنۡ
اَتۡمَمۡتَ
عَشۡرًا
فَمِنۡ عِنۡدِکَ
وَمَاۤ
اُرِیۡدُ
اَنۡ اَشُقَّ
عَلَیۡکَ
سَتَجِدُنِیۡۤ
اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ
مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ
اُس نے کہا
یقیناً میں
میں ارادہ رکھتا ہوں
یہ کہ
میں نکاح کردوں تمہارے ساتھ
ایک کا
اپنی بیٹیوں میں سے
اُن دو سے
اوپر
یہ کہ
میری مزدوری کرو
آٹھ
سال
پھر اگر
تم پورے کردو
دس سال
تو تمہاری طرف سے ہے
اور نہیں
میں ارادہ رکھتا
یہ کہ مشقت میں ڈالوں
تم کو
جلد ہی تم پاؤگے مجھے
ان شاءاللہ
نیک لوگوں میں سے
حافظ نذر احمد حفظه الله
قَالَ
اِنِّىْٓ اُرِيْدُ
اَنْ
اُنْكِحَكَ
اِحْدَى
ابْنَتَيَّ
هٰتَيْنِ
عَلٰٓي
اَنْ
تَاْجُرَنِيْ
ثَمٰنِيَ حِجَجٍ
فَاِنْ
اَتْمَمْتَ
عَشْرًا
فَمِنْ عِنْدِكَ
وَ
مَآ اُرِيْدُ
اَنْ اَشُقَّ
عَلَيْكَ
سَتَجِدُنِيْٓ
اِنْ شَآءَ اللّٰهُ
مِنَ
الصّٰلِحِيْنَ
(شعیب نے) کہا
بیشک میں چاہتا ہوں
کہ
نکاح کردوں تجھ سے
ایک
اپنی دو بیٹیاں
یہ دو
(اس شرط) پر
کہ
تم میری ملازمت کرو
آٹھ سال (جمع)
پھر اگر
تم پورے کرو
دس
تو تمہاری طرف سے
اور
نہیں چاہتا میں
کہ میں مشقت ڈالوں
تم پر
عنقریب تم پاؤگے مجھے
انشا اللہ (اگر اللہ نے چاہا)
سے
نیک (خوش معاملہ (لوگ (جمع)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]