اور اگر یہ نہ ہوتا کہ انھیں اس کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچے گی جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا توکہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے۔[47]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡلَاۤ
اَنۡ
تُصِیۡبَہُمۡ
مُّصِیۡبَۃٌۢ
بِمَا
قَدَّمَتۡ
اَیۡدِیۡہِمۡ
فَیَقُوۡلُوۡا
رَبَّنَا
لَوۡلَاۤ
اَرۡسَلۡتَ
اِلَیۡنَا
رَسُوۡلًا
فَنَتَّبِعَ
اٰیٰتِکَ
وَنَکُوۡنَ
مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
اور اگر نہ ہوتا
یہ کہ
پہنچتی انہیں
کوئی مصیبت
بوجہ اس کے جو
آگے بھیجا
ان کے ہاتھوں نے
تو وہ کہتے
اے ہمارے رب
کیوں نہ
بھیجا تو نے
ہماری طرف
کوئی رسول
تو ہم پیروی کرتے
تیری آیات کی
اور ہم ہوجاتے
ایمان لانے والوں میں سے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡلَاۤ
اَنۡ
تُصِیۡبَہُمۡ
مُّصِیۡبَۃٌۢ
بِمَا قَدَّمَتۡ
اَیۡدِیۡہِمۡ
فَیَقُوۡلُوۡا
رَبَّنَا
لَوۡلَاۤ
اَرۡسَلۡتَ
اِلَیۡنَا
رَسُوۡلًا
فَنَتَّبِعَ
اٰیٰتِکَ
وَنَکُوۡنَ
مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
اور اگر نہ ہوتا
یہ کہ
پہنچتی ان کو
کوئی مصیبت
جو کچھ آگے بھیجا
ان کے ہاتھوں نے
تو وہ کہتے
اے ہمارے رب
کیوں نہ
تونے بھیجا
ہماری طرف
کوئی رسول
پھر ہم پیروی کرتے
تیری آیا ت کی
اور ہم ہو جاتے
ایمان لانے والوں میں سے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَوْلَآ
اَنْ تُصِيْبَهُمْ
مُّصِيْبَةٌ
بِمَا قَدَّمَتْ
اَيْدِيْهِمْ
فَيَقُوْلُوْا
رَبَّنَا
لَوْلَآ
اَرْسَلْتَ
اِلَيْنَا
رَسُوْلًا
فَنَتَّبِعَ
اٰيٰتِكَ
وَنَكُوْنَ
مِنَ
الْمُؤْمِنِيْنَ
اور اگر نہ ہوتا
کہ پہنچے انہیں
کوئی مصیبت
اس کے سبب۔ جو بھیجا
ان کے ہاتھ (ان کے اعمال)
تو وہ کہتے
اے ہمارے رب
کیوں نہ
بھیجا تونے
ہماری طرف
کوئی رسول
پس پیروی کرتے ہم
تیرے احکام
اور ہم ہوتے
سے
ایمان لانے والے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔