اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو اچانک وہ نا امید ہو جاتے ہیں۔[36]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَاۤ
اَذَقۡنَا
النَّاسَ
رَحۡمَۃً
فَرِحُوۡا
بِہَا
وَاِنۡ
تُصِبۡہُمۡ
سَیِّئَۃٌۢ
بِمَا
قَدَّمَتۡ
اَیۡدِیۡہِمۡ
اِذَا
ہُمۡ
یَقۡنَطُوۡنَ
اور جب
چکھاتے ہیں ہم
لوگوں کو
کوئی رحمت
وہ خوش ہوتے ہیں
اس پر
اور اگر
پہنچتی ہے انہیں
کوئی برائی
بوجہ اس کے جو
آگے بھیجا
ان کے ہاتھوں نے
یکایک
وہ
وہ مایوں ہو جاتے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَاۤ
اَذَقۡنَا
النَّاسَ
رَحۡمَۃً
فَرِحُوۡا
بِہَا
وَاِنۡ
تُصِبۡہُمۡ
سَیِّئَۃٌۢ
بِمَا
قَدَّمَتۡ
اَیۡدِیۡہِمۡ
اِذَا
ہُمۡ
یَقۡنَطُوۡنَ
اور جب
چکھاتے ہیں ہم
لوگوں کو
رحمت
خوش ہوتے ہیں
اس سے
اور اگر
پہنچتی ہےانہیں
کوئی برائی
بوجہ اس کے جو
آگے بھیجے
ان کے ہاتھوں نے
تو یکایک
وہ
مایوس ہو جاتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذَآ
اَذَقْنَا
النَّاسَ
رَحْمَةً
فَرِحُوْا بِهَا ۭ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
سَيِّئَةٌۢ
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَيْدِيْهِمْ
اِذَا هُمْ
يَقْنَطُوْنَ
اور جب
ہم چکھائیں
لوگ
رحمت
تو وہ خوش ہوں اس سے
اور اگر
پہنچے انہیں
کوئی برائی
اس کے سبب جو
آگے بھیجا
ان کے ہاتھ
ناگہاں وہ
مایوس ہوجاتے ہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔