وہ لشکروں کو سمجھتے ہیں کہ نہیں گئے اور اگر لشکر آجائیں تو وہ پسند کریں گے کاش! واقعی وہ بدویوں میں باہر نکلے ہوئے ہوتے، تمھاری خبریں پوچھتے رہتے اور اگر وہ تم میں موجود ہوتے تو نہ لڑتے مگر بہت کم۔[20]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یَحۡسَبُوۡنَ
الۡاَحۡزَابَ
لَمۡ
یَذۡہَبُوۡا
وَاِنۡ
یَّاۡتِ
الۡاَحۡزَابُ
یَوَدُّوۡا
لَوۡ
اَنَّہُمۡ
بَادُوۡنَ
فِی الۡاَعۡرَابِ
یَسۡاَلُوۡنَ
عَنۡ اَنۡۢبَآئِکُمۡ
وَلَوۡ
کَانُوۡا
فِیۡکُمۡ
مَّا
قٰتَلُوۡۤا
اِلَّا
قَلِیۡلًا
وہ سمجھتے ہیں
گروہوں /لشکروں کو
کہ نہیں
وہ گئے
اور اگر
آ جائیں
گروہ/لشکر
وہ چاہیں گے
کاش
یہ کہ وہ
باہر رہنے والے ہوتے
بدوؤں /اعرابیوں میں
وہ پوچھ لیا کرتے
خبریں تمہاری
اور اگر
وہ ہوتے
تم میں
نہ
وہ جنگ کرتے
مگر
بہت کم
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یَحۡسَبُوۡنَ
الۡاَحۡزَابَ
لَمۡ
یَذۡہَبُوۡا
وَاِنۡ
یَّاۡتِ
الۡاَحۡزَابُ
یَوَدُّوۡا
لَوۡ
اَنَّہُمۡ
بَادُوۡنَ
فِی الۡاَعۡرَابِ
یَسۡاَلُوۡنَ
عَنۡ اَنۡۢبَآئِکُمۡ
وَلَوۡ
کَانُوۡا
فِیۡکُمۡ
مَّا
قٰتَلُوۡۤا
اِلَّا
قَلِیۡلًا
وہ سمجھتے ہیں
فوجیں
نہیں
گئیں
اور اگر
آ جائیں
فوجیں
وہ پسند کریں گے
کاش
واقعی وہ
باد یہ نشین ہوں
بدوؤں کے ساتھ
وہ پوچھتے رہتے
تمہاری خبروں کے بارے میں
اور اگر
وہ ہوتے
تمہارے درمیان
نہ
وہ لڑتے
مگر
بہت کم
حافظ نذر احمد حفظه الله
يَحْسَبُوْنَ
الْاَحْزَابَ
لَمْ يَذْهَبُوْا ۚ
وَاِنْ يَّاْتِ
الْاَحْزَابُ
يَوَدُّوْا
لَوْ اَنَّهُمْ
بَادُوْنَ
فِي الْاَعْرَابِ
يَسْاَلُوْنَ
عَنْ
اَنْۢبَآئِكُمْ ۭ
وَلَوْ
كَانُوْا
فِيْكُمْ
مَّا قٰتَلُوْٓا
اِلَّا
قَلِيْلًا
وہ گمان کرتے ہیں
لشکر (جمع)
نہیں گئے ہیں
اور اگر آئیں
لشکر
وہ تمنا کریں
کہ کاش وہ
باہر نکلے ہوئے ہوتے
دیہات میں
پوچھتے رہتے
سے
تمہاری خبریں
اور اگر
ہوں
تمہارے درمیان
جنگ نہ کریں
مگر
بہت کم
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]