اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو، پھر انھیں طلاق دے دو، اس سے پہلے کہ انھیں ہاتھ لگائو تو تمھارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں ، جسے تم شمار کرو، سو انھیں سامان دو اور انھیں چھوڑ دو، اچھے طریقے سے چھوڑنا۔[49]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اِذَا
نَکَحۡتُمُ
الۡمُؤۡمِنٰتِ
ثُمَّ
طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ
مِنۡ قَبۡلِ
اَنۡ
تَمَسُّوۡہُنَّ
فَمَا
لَکُمۡ
عَلَیۡہِنَّ
مِنۡ عِدَّۃٍ
تَعۡتَدُّوۡنَہَا
فَمَتِّعُوۡہُنَّ
وَسَرِّحُوۡہُنَّ
سَرَاحًا
جَمِیۡلًا
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو
جب
نکاح کرو تم
مومن عورتوں سے
پھر
طلاق دے دو تم انہیں
اس سے پہلے
کہ
تم چھوؤ انہیں
تو نہیں
تمہارے لیے
ان پر
کوئی عدت
کہ تم شمار کرو اسے
تو کچھ فائدہ دو انہیں
اور رخصت کرو انہیں
رخصت کرنا
بھلے طریقے سے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اِذَا
نَکَحۡتُمُ
الۡمُؤۡمِنٰتِ
ثُمَّ
طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ
مِنۡ قَبۡلِ
اَنۡ
تَمَسُّوۡہُنَّ
فَمَا
لَکُمۡ
عَلَیۡہِنَّ
مِنۡ عِدَّۃٍ
تَعۡتَدُّوۡنَہَا
فَمَتِّعُوۡہُنَّ
وَسَرِّحُوۡہُنَّ
سَرَاحًا
جَمِیۡلًا
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو
جب
نکاح کرو تم
مومن عورتوں سے
پھر
تم طلاق دو انہیں
اس سے پہلے
کہ
تم ہاتھ لگاؤ انہیں
پھر نہیں
تمہارے لیے
ان پر
عدت میں سے
تم شمار کرو جس کا
چنانچہ سروسامان دے دو انہیں
اور رخصت کر دو انہیں
رخصت کر نا
اچھے انداز سے
حافظ نذر احمد حفظه الله
يٰٓاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا
اِذَا
نَكَحْتُمُ
الْمُؤْمِنٰتِ
ثُمَّ
طَلَّقْتُمُوْهُنَّ
مِنْ قَبْلِ
اَنْ
تَمَسُّوْهُنَّ
فَمَا لَكُمْ
عَلَيْهِنَّ
مِنْ عِدَّةٍ
تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ
فَمَتِّعُوْهُنَّ
وَسَرِّحُوْهُنَّ
سَرَاحًا
جَمِيْلًا
اے
ایمان والو
جب
تم نکاح کرو
مومن عورتوں
پھر
تم انہیں طلاق دو
پہلے
کہ
تم انہیں ہاتھ لگاؤ
تو نہیں تمہارے لیے
ان پر
کوئی عدت
کہ پوری کراؤ تم اس سے
پس تم انہیں کچھ متاع دو
اور انہیں رخصت کردو
رخصت
اچھی طرح
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔