اور ہم نے ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی، نظر آنے والی بستیاں بنا دیں اور ان میں چلنے کا اندازہ مقرر کر دیا، راتوں اور دنوں کو بے خوف ہو کر ان میں چلو۔[18]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَجَعَلۡنَا
بَیۡنَہُمۡ
وَبَیۡنَ
الۡقُرَی
الَّتِیۡ
بٰرَکۡنَا
فِیۡہَا
قُرًی
ظَاہِرَۃً
وَّقَدَّرۡنَا
فِیۡہَا
السَّیۡرَ
سِیۡرُوۡا
فِیۡہَا
لَیَالِیَ
وَاَیَّامًا
اٰمِنِیۡنَ
اور بنائیں تھیں ہم نے
درمیان ان کے
اور درمیان
ان بستیوں کے
وہ جو
برکت دی ہم نے
جن میں
بستیاں
ظاہر/نمایاں
اور اندازے پر رکھی ہم نے
ان میں
مسافت
چلو پھرو
اس میں
راتوں کو
اور دنوں کو
امن سے رہنے والے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَجَعَلۡنَا
بَیۡنَہُمۡ
وَبَیۡنَ
الۡقُرَی
الَّتِیۡ
بٰرَکۡنَا
فِیۡہَا
قُرًی
ظَاہِرَۃً
وَّقَدَّرۡنَا
فِیۡہَا
السَّیۡرَ
سِیۡرُوۡا
فِیۡہَا
لَیَالِیَ
وَاَیَّامًا
اٰمِنِیۡنَ
اور کر دیا ہم نے
ان کے درمیان
اوردرمیان
بستیوں کے
وہ جو
بر کت عطا کی ہم نے
ان میں
بستیاں
نظر آنے والی
اور اندازہ مقرر کیا ہم نے
ان میں
چلنے کا
چلتے پھرتے رہو
ان میں
رات
اور دن
امن کے ساتھ
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَجَعَلْنَا
بَيْنَهُمْ
وَبَيْنَ
الْقُرَى
الَّتِيْ
بٰرَكْنَا
فِيْهَا
قُرًى
ظَاهِرَةً
وَّقَدَّرْنَا
فِيْهَا السَّيْرَ
سِيْرُوْا
فِيْهَا
لَيَالِيَ
وَاَيَّامًا
اٰمِنِيْنَ
اور ہم نے ( آباد) کردیے
ان کے درمیان
اور درمیان
بستیاں
وہ جنہیں
ہم نے برکت دی
اس میں
بستیاں
ایک دوسرے سے متصل
اور ہم نے منفرد کردیا
ان میں آمد و رفت
تم چلو (پھرو)
ان میں
راتوں
اور دنوں
امن سے (ب خوف و خطر)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔