بے شک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے، اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹیں اور یقینا اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے بعد کوئی ان دونوں کو نہیں تھامے گا، بے شک وہ ہمیشہ سے نہایت بردبار، بے حد بخشنے والا ہے۔[41]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اِنَّ
اللّٰہَ
یُمۡسِکُ
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضَ
اَنۡ
تَزُوۡلَا
وَلَئِنۡ
زَالَتَاۤ
اِنۡ
اَمۡسَکَہُمَا
مِنۡ اَحَدٍ
مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ
اِنَّہٗ
کَانَ
حَلِیۡمًا
غَفُوۡرًا
بےشک
اللہ
وہ تھامے رکھتا ہے
آسمانوں
اور زمین کو
کہ
ـنہـوہ دونوں ٹل جائیں
اور البتہ اگر
وہ دونوں ٹل جائیں
نہیں
ان دونوں کو تھام سکے گا
کوئی ایک
بعد اس کے
بےشک وہ
ہے
بہت حلم والا
بہت بخشنے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اِنَّ
اللّٰہَ
یُمۡسِکُ
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضَ
اَنۡ
تَزُوۡلَا
وَلَئِنۡ
زَالَتَاۤ
اِنۡ
اَمۡسَکَہُمَا
مِنۡ اَحَدٍ
مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ
اِنَّہٗ
کَانَ
حَلِیۡمًا
غَفُوۡرًا
یقیناً
اللہ تعالیٰ
تھامے ہوئے ہے
آسمانوں کو
اور زمین کو
یہ کہ
وہ دونوں ٹل(نہ)جائیں
اور یقیناًاگر
وہ دونوں ٹل جائیں
نہیں
تھام سکتا ان دونوں کو
کوئی ایک
اس کے بعد
یقیناًوہ
۔ (ہمیشہ سے) ہے
نہایت بردبار
بے حد بخشنے والا
حافظ نذر احمد حفظه الله
اِنَّ
اللّٰهَ
يُمْسِكُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
اَنْ
تَزُوْلَا ڬ
وَلَئِنْ
زَالَتَآ
اِنْ
اَمْسَكَهُمَا
مِنْ اَحَدٍ
مِّنْۢ بَعْدِهٖ ۭ
اِنَّهٗ
كَانَ
حَلِيْمًا
غَفُوْرًا
بیشک
اللہ
تھام رکھا ہے
آسمان (جمع)
اور زمین
کہ
ٹل جائیں وہ
اور اگر وہ
ٹل جائیں
نہ
تھامے گا انہیں
کوئی بھی
اس کے بعد
بیشک وہ
ہے
حلم والا
بخشنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]