اور اگر اللہ لوگوں کو اس کی وجہ سے پکڑے جو انھوں نے کمایا تو اس کی پشت پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر مدت تک مہلت دیتا ہے، پھر جب ان کا مقرر وقت آجائے تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔[45]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
یُؤَاخِذُ
اللّٰہُ
النَّاسَ
بِمَا
کَسَبُوۡا
مَا
تَرَکَ
عَلٰی ظَہۡرِہَا
مِنۡ دَآبَّۃٍ
وَّلٰکِنۡ
یُّؤَخِّرُہُمۡ
اِلٰۤی اَجَلٍ
مُّسَمًّی
فَاِذَا
جَآءَ
اَجَلُہُمۡ
فَاِنَّ
اللّٰہَ
کَانَ
بِعِبَادِہٖ
بَصِیۡرًا
اور اگر
پکڑ لیتا
اللہ
لوگوں کو
بوجہ اس کے جو
انہوں نے کمائی کی
نہ
وہ چھوڑتا
اس(زمین) کی پشت پر
کوئی جاندار
اور لیکن
وہ مہلت دیتا ہے انہیں
ایک وقت تک
مقرر
پھر جب
آ جائے گا
وقت ان کا
تو بےشک
اللہ
ہے
اپنے بندوں کو
خوب دیکھنے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
یُؤَاخِذُ
اللّٰہُ
النَّاسَ
بِمَا
کَسَبُوۡا
مَا
تَرَکَ
عَلٰی
ظَہۡرِہَا
مِنۡ دَآبَّۃٍ
وَّلٰکِنۡ
یُّؤَخِّرُہُمۡ
اِلٰۤی
اَجَلٍ مُّسَمًّی
فَاِذَا
جَآءَ
اَجَلُہُمۡ
فَاِنَّ
اللّٰہَ
کَانَ
بِعِبَادِہٖ
بَصِیۡرًا
اور اگر
پکڑتا
اللہ تعالیٰ
لوگوں کو
اس کی وجہ سے جو
انہوں نے کمایا
نہ
وہ چھوڑتا
اوپر
اس کی سطح کے
کوئی جاندار
اور لیکن
وہ مہلت دیتاہے انہیں
طرف
وقت مقرر کی
پھر جب
آ جائے گا
ان کا مقررہ وقت
تو یقیناً
اللہ تعالیٰ
۔ (ہمیشہ سے)ہے
اپنے بندوں کو
خوب دیکھنے والا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَوْ
يُؤَاخِذُ اللّٰهُ
النَّاسَ
بِمَا كَسَبُوْا
مَا تَرَكَ
عَلٰي
ظَهْرِهَا
مِنْ دَآبَّةٍ
وَّلٰكِنْ
يُّؤَخِّرُهُمْ
اِلٰٓى
اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ
فَاِذَا
جَآءَ
اَجَلُهُمْ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِعِبَادِهٖ
بَصِيْرًا
اور اگر
اللہ پکڑ کرے
لوگ
ان کے اعمال کے سبب
وہ نہ چھوڑے
پر
اس کی پشت
کوئی چلنے پھرنے والا
اور لیکن
وہ انہیں ڈھیل دیتا ہے
تک
ایک مدت معین
پھر جب
آجائے گی
ان کی اجل
تو بیشک
اللہ
ہے
اپنے بندوں کو
دیکھنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]