اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے اور اسے مار دے اور قسم نہ توڑ، بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، اچھا بندہ تھا۔ یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔[44]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَخُذۡ
بِیَدِکَ
ضِغۡثًا
فَاضۡرِبۡ
بِّہٖ
وَلَا
تَحۡنَثۡ
اِنَّا
وَجَدۡنٰہُ
صَابِرًا
نِعۡمَ
الۡعَبۡدُ
اِنَّہٗۤ
اَوَّابٌ
اور لے لے
اپنے ہاتھ سے
تنکوں کا ایک مُٹھا
پھر مار
ساتھ اس کے
اور نہ
تو قسم توڑ
بےشک ہم
پایا ہم نے اسے
صابر
کتنا اچھا
بندہ تھا
بےشک وہ
بہت رجوع کرنے والا تھا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَخُذۡ
بِیَدِکَ
ضِغۡثًا
فَاضۡرِبۡ بِّہٖ
وَلَا تَحۡنَثۡ
اِنَّا
وَجَدۡنٰہُ
صَابِرًا
نِعۡمَ
الۡعَبۡدُ
اِنَّہٗۤ
اَوَّابٌ
اور آپ لے لو
اپنے ہاتھ میں
تنکوں کا ایک مٹھا
پھر مارو اسے
اور نہ تم قسم توڑو
یقیناًہم نے
پایا ہم نے اس کو
صابر
کیا ہی بہترین تھا
بندہ
یقیناًوہ
بہت رجوع کرنے والاتھا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَخُذْ
بِيَدِكَ
ضِغْثًا
فَاضْرِبْ بِّهٖ
وَلَا تَحْنَثْ ۭ
اِنَّا
وَجَدْنٰهُ
صَابِرًا ۭ
نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ
اِنَّهٗٓ
اَوَّابٌ
اور تو لے
اپنے ہاتھ میں
جھاڑو
اس سے مار اس کو
اور قسم نہ توڑ
بیشک ہم
ہم نے اسے پایا
صابر
اچھا بندہ
بیشک وہ
(اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]