آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیںاور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں، سن لو! بے شک اللہ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔[5]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
تَکَادُ
السَّمٰوٰتُ
یَتَفَطَّرۡنَ
مِنۡ فَوۡقِہِنَّ
وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ
یُسَبِّحُوۡنَ
بِحَمۡدِ
رَبِّہِمۡ
وَیَسۡتَغۡفِرُوۡنَ
لِمَنۡ
فِی الۡاَرۡضِ
اَلَاۤ
اِنَّ
اللّٰہَ
ہُوَ
الۡغَفُوۡرُ
الرَّحِیۡمُ
قریب ہے کہ
آسمان
وہ پھٹ پڑیں
اپنے اوپر سے
اور فرشتے
وہ تسبیح کرتے ہیں
ساتھ تعریف کے
اپنے رب کی
اور وہ بخشش مانگتے ہیں
ان کے لیے جو
زمین میں ہیں
خبردار
بےشک
اللہ
وہی ہے
بہت بخشنے والا
نہایت رحم کرنے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
تَکَادُ
السَّمٰوٰتُ
یَتَفَطَّرۡنَ
مِنۡ فَوۡقِہِنَّ
وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ
یُسَبِّحُوۡنَ
بِحَمۡدِ
رَبِّہِمۡ
وَیَسۡتَغۡفِرُوۡنَ
لِمَنۡ
فِی الۡاَرۡضِ
اَلَاۤ
اِنَّ
اللّٰہَ
ہُوَ
الۡغَفُوۡرُ
الرَّحِیۡمُ
قریب ہے
آسمان
پھٹ پڑیں
اپنے اوپرسے
اورفرشتے
تسبیح کرتے ہیں
ساتھ حمدکے
اپنے رب کی
اوروہ بخشش کی دعاکرتے ہیں
ان کے لیے جو
زمین میں ہیں
سن لو!
یقیناً
اللہ تعالیٰ
وہ
بے حدبخشنے والا
نہایت رحم والاہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ
يَتَفَطَّرْنَ
مِنْ
فَوْقِهِنَّ
وَالْمَلٰٓئِكَةُ
يُسَبِّحُوْنَ
بِحَمْدِ
رَبِّهِمْ
وَيَسْتَغْفِرُوْنَ
لِمَنْ فِي الْاَرْضِ
اَلَآ
اِنَّ اللّٰهَ
هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ
قریب ہے آسمان
کہ پھٹ پڑیں
سے
اپنے اوپر (سے)
اور فرشتے
وہ تسبیح کررہے ہیں
ساتھ حمد کے
اپنے رب کی
اور وہ بخشش مانگتے ہیں
واسطے ان کے جو زمین میں ہیں
خبردار
بیشک اللہ تعالیٰ
وہ غفور رحیم ہے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]