پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں اور بے شک ہم، جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس پر خوش ہو جاتا ہے اور اگر انھیں اس کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو بے شک انسان بہت نا شکرا ہے۔[48]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَاِنۡ
اَعۡرَضُوۡا
فَمَاۤ
اَرۡسَلۡنٰکَ
عَلَیۡہِمۡ
حَفِیۡظًا
اِنۡ
عَلَیۡکَ
اِلَّا
الۡبَلٰغُ
وَاِنَّاۤ
اِذَاۤ
اَذَقۡنَا
الۡاِنۡسَانَ
مِنَّا
رَحۡمَۃً
فَرِحَ
بِہَا
وَاِنۡ
تُصِبۡہُمۡ
سَیِّئَۃٌۢ
بِمَا
قَدَّمَتۡ
اَیۡدِیۡہِمۡ
فَاِنَّ
الۡاِنۡسَانَ
کَفُوۡرٌ
پھر اگر
وہ اعراض کریں
تو نہیں
بھیجا ہم نے آپ کو
ان پر
نگہبان بنا کر
نہیں
آپ کے ذمہ
مگر
پہنچا دینا
اور بےشک ہم
جب
چکھاتے ہیں ہم
انسان کو
اپنی طرف سے
کوئی رحمت
وہ خوش ہو جاتا ہے
اس پر
اور اگر
پہنچتی ہے انہیں
کوئی تکلیف
بوجہ اس کے جو
آگے بھیجا
ان کے ہاتھوں نے
تو بےشک
انسان
سخت ناشکرا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَاِنۡ
اَعۡرَضُوۡا
فَمَاۤ
اَرۡسَلۡنٰکَ
عَلَیۡہِمۡ
حَفِیۡظًا
اِنۡ
عَلَیۡکَ
اِلَّا
الۡبَلٰغُ
وَاِنَّاۤ
اِذَاۤ
اَذَقۡنَا
الۡاِنۡسَانَ
مِنَّا
رَحۡمَۃً
فَرِحَ
بِہَا
وَاِنۡ
تُصِبۡہُمۡ
سَیِّئَۃٌۢ
بِمَا
قَدَّمَتۡ
اَیۡدِیۡہِمۡ
فَاِنَّ
الۡاِنۡسَانَ
کَفُوۡرٌ
پھراگر
وہ منہ پھیریں
تونہیں
بھیجاہم نے آپ کو
ان پر
نگران
کچھ نہیں
آپ پر
سوائے
پہنچادینے کے
اوریقینا ًہم
جب
چکھاتے ہیں ہم
انسان کو
اپنی طرف سے
کوئی رحمت
وہ خوش ہوجاتاہے
اس پر
اوراگر
پہنچتی ہے ان کو
کوئی مصیبت
بوجہ اس کے جو
آگے بھیجا
ان کے ہاتھوں نے
تویقیناً
انسان
بہت ناشکراہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَاِنْ
اَعْرَضُوْا
فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ
عَلَيْهِمْ
حَفِيْظًا
اِنْ عَلَيْكَ
اِلَّا الْبَلٰغُ
وَاِنَّآ
اِذَآ
اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ
مِنَّا
رَحْمَةً
فَرِحَ بِهَا
وَاِنْ تُصِبْهُمْ
سَيِّئَةٌۢ
بِمَا قَدَّمَتْ
اَيْدِيْهِمْ
فَاِنَّ الْاِنْسَانَ
كَفُوْرٌ
پھر اگر
وہ اعراض برتیں
تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو
ان پر
نگہبان بنا کر
نہیں آپ کے ذمہ
مگر پہنچا دینا
اور بیشک ہم
جب
چکھاتے ہیں ہم انسان کو
اپنی طرف سے
کوئی رحمت
خوش ہوجاتا ہے وہ اس پر
اور اگر پہنچتی ہے ان کو
کوئی تکلیف
بوجہ اس کے جو آگے بھیجا
ان کے ہاتھوں نے
تو بیشک انسان
سخت، ناشکرا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔