اور جب کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے اور جو قیامت ہے اس میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہم تو محض معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہم ہرگز پورا یقین کرنے والے نہیں۔[32]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
قِیۡلَ
اِنَّ
وَعۡدَ
اللّٰہِ
حَقٌّ
وَّالسَّاعَۃُ
لَارَیۡبَ
فِیۡہَا
قُلۡتُمۡ
مَّا
نَدۡرِیۡ
مَا
السَّاعَۃُ
اِنۡ
نَّظُنُّ
اِلَّا
ظَنًّا
وَّمَا
نَحۡنُ
بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ
اور جب
کہا گیا
بےشک
وعدہ
اللہ کا
سچا ہے
اور قیامت
نہیں کوئی شک
اس میں
کہا تم نے
نہیں
ہم جانتے
کیا ہے
قیامت
نہیں
ہم سمجھتے
مگر
ایک گمان ہی
اور نہیں ہیں
ہم
یقین کرنے والے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
قِیۡلَ
اِنَّ
وَعۡدَ اللّٰہِ
حَقٌّ
وَّالسَّاعَۃُ
لَا
رَیۡبَ
فِیۡہَا
قُلۡتُمۡ
مَّا نَدۡرِیۡ
مَا
السَّاعَۃُ
اِنۡ
نَّظُنُّ
اِلَّا
ظَنًّا
وَّمَا
نَحۡنُ
بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ
اورجب
کہاجاتاتھا
یقیناً
وعدہ اللہ تعالیٰ کا
سچاہے
اورقیامت
نہیں
شک
اس میں
تم کہتے تھے
نہیں ہم جانتے
کیاہوتی ہے
قیامت
نہیں
ہم گمان رکھتے
مگر
معمولی گمان
اورنہیں
ہم
پورایقین کرنے والے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذَا قِيْلَ
اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ
حَقٌّ
وَّالسَّاعَةُ
لَا رَيْبَ فِيْهَا
قُلْتُمْ
مَّا نَدْرِيْ
مَا السَّاعَةُ
اِنْ نَّظُنُّ
اِلَّا ظَنًّا
وَّمَا نَحْنُ
بِمُسْتَيْقِنِيْنَ
اور جب کہا جاتا
بیشک وعدہ اللہ کا
سچا ہے
اور قیامت
نہیں کوئی شک اس میں
کہا تم نے
ہم نہیں جانتے
قیامت کیا ہوتی ہے
نہیں ہم سمجھتے
مگر ایک گمان
اور نہیں ہیں ہم
یقین کرنے والے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]