یقینا تمھارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمھیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اﷲپرایمان لاؤ، مگر ابراہیم کااپنے باپ سے کہنا(تمھارے لیے نمونہ نہیں)کہ بے شک میں تیرے لیے بخشش کی دعا ضرور کروں گا اور میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز (کے دلوانی) کا مالک نہیں ہوں،اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔[4]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قَدۡ
کَانَتۡ
لَکُمۡ
اُسۡوَۃٌ
حَسَنَۃٌ
فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ
وَالَّذِیۡنَ
مَعَہٗ
اِذۡ
قَالُوۡا
لِقَوۡمِہِمۡ
اِنَّا
بُرَءٰٓؤُا
مِنۡکُمۡ
وَمِمَّا
تَعۡبُدُوۡنَ
مِنۡ دُوۡنِ
اللّٰہِ
کَفَرۡنَا
بِکُمۡ
وَبَدَا
بَیۡنَنَا
وَبَیۡنَکُمُ
الۡعَدَاوَۃُ
وَالۡبَغۡضَآءُ
اَبَدًا
حَتّٰی
تُؤۡمِنُوۡا
بِاللّٰہِ
وَحۡدَہٗۤ
اِلَّا
قَوۡلَ
اِبۡرٰہِیۡمَ
لِاَبِیۡہِ
لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ
لَکَ
وَمَاۤ
اَمۡلِکُ
لَکَ
مِنَ اللّٰہِ
مِنۡ شَیۡءٍ
رَبَّنَا
عَلَیۡکَ
تَوَکَّلۡنَا
وَاِلَیۡکَ
اَنَبۡنَا
وَاِلَیۡکَ
الۡمَصِیۡرُ
تحقیق
ہے
تمہارے لیے
نمونہ
اچھا
ابراہیم میں
اور ان لوگوں میں جو
اس کے ساتھ تھے
جب
انہوں نے کہا
اپنی قوم سے
بےشک ہم
بےزار ہیں
تم سے
اور ان سے جنہیں
تم پوجتے ہو
سوائے
اللہ کے
انکار کیا ہم نے
تمہارا
اور ظاہر ہو گئی
درمیان ہمارے
اور درمیان تمہارے
عداوت
اور بغض
ہمیشہ کے لیے
یہاں تک کہ
تم ایمان لاؤ
اللہ پر
اکیلے اسی پر
مگر
کہنا
ابراہیم کا
اپنے والد سے
البتہ میں ضرور بخشش مانگوں گا
تیرے لیے
اور نہیں
میں مالک
تیرے لیے
اللہ سے
کسی چیز کا
اے ہمارے رب
تجھ پر ہی
توکل کیا ہم نے
اور طرف تیرے ہی
رجوع کیا ہم نے
اور طرف تیرے ہی
لوٹنا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قَدۡ
کَانَتۡ
لَکُمۡ
اُسۡوَۃٌ
حَسَنَۃٌ
فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ
وَالَّذِیۡنَ
مَعَہٗ
اِذۡ
قَالُوۡا
لِقَوۡمِہِمۡ
اِنَّا
بُرَءٰٓؤُا
مِنۡکُمۡ
وَمِمَّا
تَعۡبُدُوۡنَ
مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ
کَفَرۡنَا
بِکُمۡ
وَبَدَا
بَیۡنَنَا
وَبَیۡنَکُمُ
الۡعَدَاوَۃُ
وَالۡبَغۡضَآءُ
اَبَدًا
حَتّٰی
تُؤۡمِنُوۡا
بِاللّٰہِ
وَحۡدَہٗۤ
اِلَّا
قَوۡلَ
اِبۡرٰہِیۡمَ
لِاَبِیۡہِ
لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ
لَکَ
وَمَاۤ
اَمۡلِکُ
لَکَ
مِنَ اللّٰہِ
مِنۡ شَیۡءٍ
رَبَّنَا
عَلَیۡکَ
تَوَکَّلۡنَا
وَاِلَیۡکَ
اَنَبۡنَا
وَاِلَیۡکَ
الۡمَصِیۡرُ
یقیناً
ہے
تمہارے لیے
نمونہ
اچھا
ابراہیم میں
اورجولوگ
اس کے ساتھ تھے
جب
کہاانہوں نے
اپنی قوم سے
کہ بلاشبہ ہم
لاتعلقی کااظہارکرتے ہیں
تم سے
اوران سے جن کی
تم عبادت کرتے ہو
اﷲتعالیٰ کے سوا
ہم کفرکرتے ہیں
تمہارا
اورظاہرہوگئی
ہمارے درمیان
اورتمہارے درمیان
دشمنی
اوربغض
ہمیشہ کے لیے
یہاں تک کہ
تم ایمان لاؤ
اﷲتعالیٰ پر
اس اکیلے پر
مگر
کہنا
ابراہیم کا
اپنے باپ سے
ضرورمیں مغفرت کی دعاکروں گا
آپ کے لیے
اورنہیں
میں اختیاررکھتا
آپ کے لیے
اﷲتعالیٰ سے
کسی چیزکا
اے ہمارے رب!
تجھ پر
بھروسہ کیاہم نے
اورتیری ہی جانب
رجوع کیاہم نے
اورتیری ہی جناب میں
واپسی ہے (ہماری)
حافظ نذر احمد حفظه الله
قَدْ كَانَتْ
لَكُمْ
اُسْوَةٌ
حَسَنَةٌ
فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ
وَالَّذِيْنَ
مَعَهٗ ۚ
اِذْ قَالُوْا
لِقَوْمِهِمْ
اِنَّا بُرَءٰٓؤُا
مِنْكُمْ
وَمِمَّا
تَعْبُدُوْنَ
مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۡ
كَفَرْنَا
بِكُمْ
وَبَدَا
بَيْنَنَا
وَبَيْنَكُمُ
الْعَدَاوَةُ
وَالْبَغْضَآءُ
اَبَدًا
حَتّٰى
تُؤْمِنُوْا
بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ
اِلَّا قَوْلَ
اِبْرٰهِيْمَ
لِاَبِيْهِ
لَاَسْتَغْفِرَنَّ
لَكَ
وَمَآ
اَمْلِكُ
لَكَ
مِنَ اللّٰهِ
مِنْ شَيْءٍ ۭ
رَبَّنَا
عَلَيْكَ
تَوَكَّلْنَا
وَاِلَيْكَ
اَنَبْنَا
وَاِلَيْكَ
الْمَصِيْرُ
بیشک ہے
تمہارے لئے
چال (نمونہ)
بہترین
ابراہیم میں
اور جو
اس کے ساتھ
جب انہوں نے کہا
اپنی قوم کو
بیشک ہم لاتعلق
تم سے
اور ان سے جن کی
تم بندگی کرتے ہو
اللہ کے سوا
ہم منکر ہوں
تمہارے
اور ظاہر ہوگئی
ہمارے درمیان
اور تمہارے درمیان
عداوت
اور بغض (دشمنی)
ہمیشہ کیلئے
یہاں تک کہ
تم ایمان لے آؤ
اللہ پر واحد
مگر کہنا
ابراہیم
اپنے باپ سے
البتہ میں ضرور مغفرت مانگوں گا
تمہارے لئے
اور نہیں
میں اختیار رکھتا
تمہارے لئے
اللہ سے، آگے
کچھ بھی
اے ہمارے رب
تجھ پر
ہم نے بھروسہ کیا
اور تیری طرف
ہم نے رجوع کیا
اور تیری طرف
بازگشت
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]