تفسیر ابن کثیر
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔