🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر احسن البیان
سورة الأنفال
وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ۚ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۳۹﴾
اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ نہ رہے۔ (1) اور دین اللہ کا ہی ہوجائے (2) پھر اگر باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھتا ہے (3)[39]
تفسیر احسن البیان
39۔ 1 فتنہ سے مراد شرک ہے۔ یعنی اس وقت تک جہاد جاری رکھو، جب تک شرک کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ 39۔ 2 یعنی اللہ کی توحید کا پرچار تمام عالم میں لہرا جائے۔ 39۔ 3 یعنی تمہارے لئے ان کا ظاہری اسلام ہی کافی ہے، باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کردو، کیونکہ اس کو ظاہر و باطن ہر چیز کا علم ہے۔