اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بے شک اللہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اسے خوب دیکھنے والا ہے۔[39]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَقَاتِلُوۡہُمۡ
حَتّٰی
لَاتَکُوۡنَ
فِتۡنَۃٌ
وَّیَکُوۡنَ
الدِّیۡنُ
کُلُّہٗ
لِلّٰہِ
فَاِنِ
انۡتَہَوۡا
فَاِنَّ
اللّٰہَ
بِمَا
یَعۡمَلُوۡنَ
بَصِیۡرٌ
اور جنگ کرو ان سے
یہاں تک کہ
نہ رہے
کوئی فتنہ
اور ہوجائے
دین
سارے کا سارا
اللہ کے لیے
پھر اگر
وہ باز آجائیں
تو بیشک
اللہ تعالی
اسے جو
وہ عمل کرتے ہیں
خوب دیکھنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَقَاتِلُوۡہُمۡ
حَتّٰی
لَاتَکُوۡنَ
فِتۡنَۃٌ
وَّیَکُوۡنَ
الدِّیۡنُ
کُلُّہٗ
لِلّٰہِ
فَاِنِ
انۡتَہَوۡا
فَاِنَّ
اللّٰہَ
بِمَا
یَعۡمَلُوۡنَ
بَصِیۡرٌ
اور تم لڑ و اُن سے
یہاں تک کہ
نہ رہے
کوئی فتنہ
اور ہو جائے
دین
سب کا سب
اللہ تعالیٰ کے لیے
پھر اگر
وہ باز آ جا ئیں
تو یقیناً
اللہ تعالیٰ
اُس کو جو
وہ عمل کرتے ہیں
خوب دیکھنے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَقَاتِلُوْهُمْ
حَتّٰي
لَا تَكُوْنَ
فِتْنَةٌ
وَّيَكُوْنَ
الدِّيْنُ
كُلُّهٗ
لِلّٰهِ
فَاِنِ
انْتَهَوْا
فَاِنَّ
اللّٰهَ
بِمَا
يَعْمَلُوْنَ
بَصِيْرٌ
اور ان سے جنگ کرو
یہانتک
نہ رہے
کوئی فتنہ
اور ہوجائے
دین
سب
اللہ کا
پھر اگر
وہ باز آجائیں
تو بیشک
اللہ
جو وہ
وہ کرتے ہیں
دیکھنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔