🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر احسن البیان
سورة الأنفال
کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ ۚ وَ کُلٌّ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۵۴﴾
مثل حالت فرعونیوں کے اور ان سے پہلے کے لوگوں کے کہ انہوں نے اپنے رب کی باتیں جھٹلائیں۔ پس ان کے گناہوں کے باعث ہم نے انہیں برباد کیا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ یہ سارے ظالم تھے (1)[54]
تفسیر احسن البیان
54۔ 1 یہ اس بات کی تاکید ہے جو پہلے گزری، البتہ اس میں ہلاکت کی صورت کا اضافہ ہے کہ انہیں غرق کردیا گیا۔ علاوہ ازیں یہ واضح کردیا کہ اللہ نے ان کو غرق کر کے ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ یہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔ اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا (وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ) 41۔ فصلت:46)