🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر احسن البیان
سورة يوسف
وَ قَالَ الَّذِی اشۡتَرٰىہُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِہٖۤ اَکۡرِمِیۡ مَثۡوٰىہُ عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا ؕ وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ وَ لِنُعَلِّمَہٗ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ؕ وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمۡرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۱﴾
مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی (1) سے کہا کہ اسے بہت عزت و احترام کے ساتھ رکھو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنالیں، یوں ہم نے مصر کی سرزمین پر یوسف کا قدم جما دیا (2) ، کہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا کچھ علم سکھا دیں۔ اللہ اپنے ارادے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہوتے ہیں۔[21]
تفسیر احسن البیان
21۔ 1 کہا جاتا ہے کہ مصر پر اس وقت ریان بن ولید حکمران تھا اور یہ عزیز مصر، جس نے یوسف ؑ کو خریدا اس کا وزیر خزانہ تھا، اس کی بیوی کا نام بعض نے راعیل اور بعض نے زلیخا بتلایا ہے واللہ اعلم۔ 21۔ 2 یعنی جس طرح ہم نے یوسف ؑ کو کنویں سے ظالم بھائیوں سے نجات دی، اسی طرح ہم نے یوسف ؑ کو سرزمین مصر میں ایک معقول اچھا ٹھکانا عطا کیا۔